Urdu book · عقلیات اسلام

سائنس کی گواہی

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈاکٹر ماریس بکائی اپنی دوسری کتاب میں لکھتے ہیں کہ مجھے فرانس میں یہ بتایا گیا تھا کہ قرآن محمد کی کتاب ہے۔ انھوں نے اس کو بائبل سے کچھ گھٹا کر یا بڑھا کر تیار کر لیا ہے۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر میں قدرتی طور پر یہ سمجھتا تھا کہ بائبل کے اندر جو علمی غلطیاں (scientific errors) ہیں ، وہ لازماً قرآن کے اندر بھی ہونی چاہئیں (صفحہ 157)۔ مزید یہ کہ محمد کے الہام کا زمانہ 610ء سے لے کر 632ء تک ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ مشرق و مغرب میں ہر طرف علمی تاریک خیالی (scientific obscurantism) کا ذہن چھایا ہوا تھا۔ اس لحاظ سے یہ بھی ہونا چاہیے کہ اس تاریک علمی دور کے اثرات ان کی کتاب میں پائے جا رہے ہوں۔ مگر بعض تجربات کے دوران انھیں معلوم ہوا کہ قرآن کے بیانات اور بائبل کے بیانات میں اگر چہ کئی باتیں مشترک ہیں مگر قرآن حیرت انگیز طور پر اس قسم کی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان علمی غلطیوں کو حذف کر دیتا ہے جو موجودہ بائبل میں پائی جاتی ہیں۔ اب ان کا تجسس بڑھا۔ یہاں تک کہ قرآن کو براہ راست اس کی اپنی زبان میں سمجھنے کے لیے انھوں نے پچاس سال کی عمر میں عربی زبان سیکھنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد جب انھوں نے قرآن کو براہ راست پڑھا تو انھوں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ بائبل ایک طرف علمی غلطیوں سے بھری ہوئی ہے۔ مگر دوسری طرف قرآن کا حال یہ ہے کہ وہ علمی غلطیوں سے یکسر خالی ہے۔ اگر قرآن محمد کی کتاب ہو اور انھوں نے اس کو بائبل اور وقت کی معلومات کی مدد سے مرتب کیا ہو تو کیا وجہ ہے کہ قرآن میں وہ تمام علمی غلطیاں حذف ہیں جو بائبل میں یا محمد کے زمانہ میں پائی جا رہی تھیں۔ مثلاً بائبل میں انسان کے ظہور کی جو تاریخ دی گئی ہے اس کے لحاظ سے 1981ء کے حساب کے مطابق زمین پر انسان کا ظہور پہلی بار 5742 سال پہلے ہوا۔ مگر اس قسم کی بے معنی غلطیاں قرآن میں بالکل نہیں پائی جاتیں (صفحہ 15)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page