Urdu book · عقلیات اسلام

وضعی قانون اور الہی قانون

Urdu book, p. 211

By Maulana Wahiduddin Khan

وضعی قانون اور الہی قانون راسکو پاؤنڈ (1870-1964 ,Roscoe Pound) نے قانون کا مقصد سماجی انجینئرنگ (social engineering) بتایا ہے۔ یہ بیان یقیناً صحیح ہوتا بشرطیکہ پاؤنڈ یہ بھی ثابت کر سکتا کہ انسانی سماج کمپیوٹروں کا ایک مجموعہ ہے۔ مگر بدقسمتی سے امریکی پروفیسر کے لیے یہ ثابت کرنا ممکن نہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وضعی قانون کی اس کمزوری کا راز چھپا ہوا ہے جس کی بنا پر وہ ڈھائی ہزار سالہ کوششوں کی تاریخ رکھنے کے باوجود اب تک اپنا کوئی قابل قبول اصول قانون دریافت نہ کر سکا۔ ایک شخص جب اصول قانون کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کے سامنے تقریباً ایک درجن بڑے بڑے اسکولوں کے نام آتے ہیں۔ مگر فنی تفصیلات سے قطع نظر کر کے دیکھا جائے تو ان مدارس فکر کو اصولی طور پر دو قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک، نظریاتی اصول قانون (ideological jurisprudence) جو اس تلاش میں مصروف ہے کہ قانون کو کیسا ہونا چاہیے (law as it ought to be)، دوسرے، تحلیلی اصول قانون (analytical jurisprudence) جو قانون کی تعبیر ویسی ہی کرنا چاہتا ہے ”جیسا کہ وہ ہے“ (law as it is) اصول قانون کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ دونوں قسم کے اسکول کسی قابل قبول نتیجہ تک پہنچنے میں مکمل طور پر نا کام رہے ہیں۔ علمائے قانون جب قانون کی تشریح ثانی الذکر اصول کی روشنی میں کرتے ہیں تو انھیں اس تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ قانون کا منطقی جواز ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور جب اول الذکر اصول کی روشنی میں قانون کو سمجھنا چاہتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی کسی چیز کی دریافت ممکن ہی نہیں۔ ایک طرف وہ علمائے قانون ہیں جو قانون کو محض اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ انسانی سماج کا ایک خارجی ڈھانچہ ہے، اس لیے اس کو معلوم قواعد و ضوابط کی روشنی میں ٹھیک اسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page