وضعی قانون اور الہی قانون
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح بنایا جا سکتا ہے جیسے عجائب خانہ میں جانوروں کے لیے کٹھرا بنایا جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر کی ایک وکالت جان آسٹن (1859-1790ء) کا مشہور نظریہ تھا جس میں اس نے کہا: Law is what is imposed by a superior on an inferior, یعنی قانون ان احکام کا نام ہے جو سیاسی طور پر اعلیٰ ہستی کی طرف سے سیاسی طور پر ادنیٰ ہستی کے اوپر نافذ کیا گیا ہو، یہ اعلیٰ ہستی خواہ بادشاہ ہو یا مقننہ۔ جان آسٹن (john Austin) کا یہ نظریہ بظاہر ایک قابل عمل نظریہ ہونے کے باوجود منطقی صحت سے مکمل طور پر محروم ہے۔ کیوں کہ یہ قانون ساز کو یہ مقام دے دیتا ہے کہ اس کا عمل انصاف کے معیاروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ حالانکہ انسانی عقل کبھی اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ انصاف (justice) کے تصور کو قانون سے الگ کر دیا جائے۔ قانون جب کسی کے اوپر ایک فیصلہ کا نافذ کرتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ اسی وقت جائز فیصلہ ہے جب کہ وہ انصاف پر مبنی ہو۔ تاہم آج تمام دنیا میں، عملی طور پر، جان آسٹن ہی کے نظریہ کی حکمرانی ہے۔ نام نہاد آزاد دنیا میں یہ کام بغیر کسی اصول قانون کے ہو رہا ہے۔ ایک فرانسیسی قانون داں نے جو بات اپنی حکومت کے بارے میں کہی ہے، وہی دوسری تمام حکومتوں پر بھی صادق آتی ہے: Our government has the power but not the right. ہماری حکومت کے پاس قانون کے نفاذ کے لیے طاقت ہے مگر اس کا اسے کوئی حق نہیں۔ اشتراکی دنیا میں یہ جبری منطق اس سوویت اصول قانون کے تحت نافذ ہے کہ اشتراکی یا سماجی تعلقات (social relationships) ہی کا دوسرا نام قانون ہے۔ اشتراکی دنیا میں چونکہ علمی تحقیق بھی سیاست ہی کا ایک حصہ ہے، اس لیے باہر کی دنیا کے مفکرین کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader