Urdu book · عقلیات اسلام

عقلیات اسلام

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

لکھے جارہے تھے ، تمہیں سرطان کے پھوڑوں نے پریشان کر رکھا تھا۔ تمہارے پھوڑوں کا وہی عذاب ان ابواب میں مقید ہو گیا ہے اور وہی کرب وبوان میں بھی بس گئی ہے۔ مارکس نے اس تنقید کی تصدیق کرتے ہوئے جواب دیا: ”مجھے اس کا افسوس نہیں ہے بلکہ خوش ہوں کہ سرطان کے پھوڑوں کا عذاب ان میں محفوظ ہے کیوں کہ میری یہ کتاب سرمایہ داروں کے طبقے میں جب جائے گی تو اس عذاب کا مزہ وہ بھی چک سکیں گے“۔ یہ صحیح ہے کہ ایک سرطان زدہ مصنف کی تحریر کو جو شخص پڑھے گا وہ اس کے اندر پھوڑوں کا تعفن اور ان کا کرب محسوس کر سکتا ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ یہ تحریر کی خوبی نہیں بلکہ اس کا نقص ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تحریر ایک شخص کی ذہنی حالت کی ترجمان ہے نہ کہ حقیقت کی ترجمان۔ الہامی ہدایت حقیقت یہ ہے کہ مادی دنیا اور انسانی دنیا دونوں کا دین ایک ہے اور وہ قانون قدرت کی پیروی ہے۔ ایک ہی خالق نے دونوں کو پیدا کیا ہے اور وہی ہے جس نے دونوں کے لیے قانون عمل مقرر کیا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ مادی دنیا اپنا قانون اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ مادی دنیا کا قانون عمل خود اس کے اندر اس طرح پیوست ہوتی ہے کہ وہ لازمی طور پر اسی کے تحت عمل کرتی ہے۔ وہ کسی طرح اس سے باہر نہیں جا سکتی۔ مگر انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق ہے۔ وہ وہی کرتا ہے جو وہ کرنا چاہے اور وہ نہیں کرتا جو وہ کرنا نہ چاہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انسان، دوسری چیزوں کی طرح نہیں ہے کہ اس کا قانون اس کے ساتھ ہو۔ انسان کو اپنا قانون عمل علیحدہ سے دریافت کرنا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page