حقیقت کی دریافت میں ناکامی
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
آئندہ کے بارے میں کوئی اصول کس طرح طے کیا جا سکتا ہے۔ پھر کس طرح یقین کیا جائے کہ ماضی کے بارے میں کسی شخص کا تجزیہ لازمی طور پر مستقبل کی بھی صحیح تشریح کرتا ہے۔ جو کچھ وجود میں آ چکا ہے ان کے بارے میں کوئی سر پھرا سب کچھ جاننے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ مگر جو کچھ ابھی سرے سے وجود میں نہیں آیا ان کو کون جان سکتا ہے جب کہ مارکسی فلسفہ کے مطابق ان کے لیے کوئی لگا بندھا اصول بھی نہیں ہے۔ جب کہ اکثر اوقات اندازے کے خلاف بھی اس میں تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں۔ اب تیسری حیثیت سے دیکھیے۔ اینگلز کے خیال میں ہیگل اس لیے حقیقت تک نہ پہنچ سکا کہ وہ ”عینیت پسند“ تھا۔ ٹھیک یہی بات خود مارکس کے بارے میں کہی جا سکتی ہے کہ وہ اس لیے حقیقت تک نہیں پہنچ سکا کہ وہ ”مادیت پسند“ تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ کوئی انسان اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ بالکل تجریدی انداز میں حقائق کا مطالعہ کر سکے۔ ہر شخص کے کچھ مخصوص رجحانات ہوتے ہیں اور آدمی مجبور ہے کہ وہ جب بھی مسائل حیات کا مطالعہ کرے تو ان رجحانات سے مغلوب ہو جائے۔ اس طرح ہر آدمی کا مطالعہ جانبدار مطالعہ بن جاتا ہے اور اس کے فیصلے زندگی کے بے شمار پہلوؤں میں سے کسی ایک پہلو کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں ، اس میں ایک فرد کے ذوق کی تسکین ہو سکتی ہے، مگر مجموعی طور پر پورے معاشرے کے لیے وہ بالکل ناقابل قبول ہوتے ہیں۔ انسان کی ذاتی کیفیات کس طرح اس کے طرز فکر پر غالب ہو جاتی ہیں اس کی ایک دلچسپ مثال یہ ہے کہ مارکس کی کتاب ”سرمایہ“ کی پہلی جلد شائع ہو کر جب اینگلز کے ہاتھ میں گئی تو اس نے اس کے پہلے دو ابواب پر جن میں جنس اور زر کا تجزیہ ہے اور جو تمام کتاب میں سب سے زیادہ صبر آزما اوراق سمجھے جاتے ہیں، تبصرہ کرتے ہوئے مارکس کو لکھا: ”کیا ہی اچھا ہوتا اگر یہ باب اتنے لمبے ہونے کے بجائے چھوٹے چھوٹے کئی حصوں پر منقسم ہوتے اور ان کو زیادہ عام فہم بنا دیا جاتا۔ مجھے یاد ہے کہ جس زمانہ میں یہ ابواب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader