عقلیات اسلام
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
امتیازی خصوصیات ہیں جو اس وقت قابل فہم ہو سکتی ہیں جبکہ یہ مانا جائے کہ وہ ایسے ذہن سے نکلا ہے جو انسان کے مقابلہ میں زیادہ وسیع طور پر حقائق کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ چند سوالات اگر یہ مان لیا جائے کہ الہی قانون ہی اصول قانون کی تلاش کا جواب ہے جب بھی چند سوالات باقی رہتے ہیں: 1۔ مختلف مذاہب ’’الہی قانون‘‘ کا حامل ہونے کے دعوے دار ہیں اور ان میں کافی اختلاف بھی ہیں۔ پھر وہ کون سا معیار ہوگا جس کی بنیاد پر کسی ایک مذہب کے قانون کو الہی قانون قرار دیا جائے گا۔ 2۔ کسی ایک مذہب کو معیار ماننے کے بعد یہ سوال سامنے آتا ہے کہ ان کے اندرونی اختلافات کو طے کرنے کی صورت کیا ہوگی۔ 3۔ یہ الہی قانون ہزار برس سے بھی زیادہ قدیم زمانہ میں آیا۔ اس دوران انسانی سماج میں بے شمار تبدیلیاں واقع ہوئیں، پھر اس کو نئے حالات کے مطابق کس طرح بنایا جائے گا۔ یہ تین بڑے سوالات ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں مختصر عرض کروں گا: مذاہب کی کثرت سے یہ بات یقیناً ثابت ہوتی ہے کہ ہر زمانہ میں اور ہر قوم میں خدا کی طرف سے اس کا قانون بھیجا گیا۔ مگر ان کا باہمی اختلاف یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک ہی ہوگا جس کو الہی قانون کا صحیح نمائندہ قرار دیا جاسکے۔ تعدد(pluralism) عقلی طور پر ناقابل فہم عقیدہ ہے۔ اب سوال ہے کہ ان میں سے کسی ایک کو مستند نمائندہ کی حیثیت سے منتخب کرنے کی صورت کیا ہو۔ اس کا بالکل سیدھا سادہ علمی طریقہ یہ ہے کہ ان کو تاریخ کے معیار پر پرجانچا جائے اور جس مذہب کا تاریخی طور پر محفوظ اور معلوم ہونا ثابت ہو جائے اس کو لے لیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader