الہی قانون
Urdu book, p. 228
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر جنگِ عظیم ثانی کے بعد جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کو روکنے کی تمام معالجاتی تدبیریں ناکام ہو چکی ہیں۔ چنانچہ کئی ملکوں مثلاً ڈیلاویر (Delaware) اور سری لنکا میں پہلے سزائے موت ختم کی گئی تھی اور اب اس کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ ماہرینِ قانون میں دوبارہ ایسے لوگ پیدا ہورہے ہیں جو اس کی اہمیت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ ایک بیرسٹر نے کہا ہے ’’لوگوں میں یہ عام تاثر ہونا کہ کسی بھی شخص کو قتل کرنا، مجرم کو موت کی سزا کا مستحق بناتا ہے، اپنے اندر بہت بڑی مانع قدر (deterrent value) رکھتا ہے‘‘۔ یہ تجربہ اس مفروضہ کی تصدیق کرتا ہے کہ جرم کی سزا کا مسئلہ جن پیچیدہ سوالات سے گہری واقفیت چاہتا ہے، الہی قانون میں اس کی رعایت وضعی قانون سے زیادہ پائی جاتی ہے۔ اوپر جو کچھ عرض کیا گیا، اس کا خلاصہ مندرجہ ذیل الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے: 1۔ وضعی قانون کوئی قابلِ قبول اصولِ قانون دریافت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے۔ مزید یہ کہ وہ آئندہ بھی ناکام ہی رہے گا۔ کیوں کہ انسان کی محدودیت یہاں راہ میں حائل ہو رہی ہے۔ 2۔ وہ واقعہ جس نے انسان کے لیے اصول قانون کی دریافت کو ناممکن بنا دیا ہے، اسی میں الہی قانون کی صداقت کا قرینہ چھپا ہوا ہے۔ کیوں کہ ایک طرف ذہنِ انسانی کی محدودیت اور دوسری طرف حقائق کی وسعت ظاہر کر رہی ہے کہ کوئی ایسا ذہن ہو جو انسانی ذہن سے برتر ہو اور جس کے اندر سارے حقائق موجود ہوں۔ 3۔ کائنات میں ایسے واقعات ہیں جو فطرت اور جبّت کی سطح پر الہام کا امکان ثابت کر رہے ہیں۔ الہی قانون اس میں صرف یہ اضافہ کرتا ہے کہ اس الہام کو انسان تک وسیع کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ اس مفروضہ کو مزید مؤید کرتا ہے کہ موجودہ الہی قانون میں کچھ ایسے برتر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader