Urdu book · عقلیات اسلام

چند سوالات

Urdu book, p. 231

By Maulana Wahiduddin Khan

سے آیا ہے، وہ مکمل طور پر محفوظ ہے، تمام محققین نے اس کو بطور واقعہ تسلیم کیا ہے۔ یہ صرف قرآن ہی کی خصوصیت ہے کہ اس کے بارے میں جب آپ کسی محقق کو پڑھتے ہیں تو اس کے یہاں لکھا ہوا ملتا ہے: یعنی قرآن بالکل مستند شکل میں محفوظ ہے۔ حضرت محمد نے جو الفاظ بطور الہام اپنی زبان سے نکالے تھے، قرآن عین انھیں الفاظ پر مشتمل ہے جو آپ کی زندگی ہی میں مرتب کر لیا گیا تھا۔ مقدس کتابوں کی تاریخ میں یہ بات انتہائی عجیب ہے کہ ہرن کی کھال پر لکھا ہوا وہ قرآن آج بھی تاشقند کی لائبریری میں محفوظ ہے جو پیغمبرِ اسلام کے داماد اور خلیفہ ثالث عثمان غنی (656-624ء) کے زیر مطالعہ رہتا تھا۔ قرآن کے ابتدائی نسخہ اور موجودہ متداول نسخوں میں ایک لفظ کا بھی فرق نہیں۔ سر ولیم میور (1905-1819ء) نے لکھا ہے: ”یہی ایک نکتہ کہ مسلمانوں کے فرقے ہر زمانہ میں قرآن کے ایک ہی نسخے کے پیرو رہے ہیں، قطعی طور پر ثابت کر دیتا ہے کہ جو قرآن آج ہمارے ہاتھوں میں ہے، وہی قرآن ہے جسے عثمان کے حکم سے جمع کیا گیا۔ میرا گمان ہے کہ قرآن کے سوا تمام دنیا میں کوئی کتاب نہیں جس کا متن بارہ صدیوں تک اتنا محفوظ اور آلائش سے پاک رہا ہو۔“ میں شاید کہنے میں حق بجانب ہوں کہ الہی قانون کی بنیادی صداقت کو تسلیم کرنے کے بعد ان میں سے کسی کو اختیار کرنے کا سب سے زیادہ غیر مشتبہ علمی معیار تاریخ ہی ہو سکتا ہے اور وہ بلاشبہ قرآن کے حق میں فراہم ہو گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page