چند سوالات
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
اب یہ سوال ہے کہ خود اسلام کے اندرونی اختلافات کو کس طرح طے کیا جائے۔ یہ مسئلہ جو بظاہر بھیانک معلوم ہوتا ہے اس وقت بالکل معمولی نظر آنے لگا ہے جب ہم اس حقیقت کو سامنے رکھیں کہ انسانی طبائع میں اختلاف کی وجہ سے تعبیرات و تشریحات اختلاف ناگزیر ہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے نہ کہ زندگی کا ایک مسئلہ۔ اس کا نہایت سادہ حل قرآن نے یہ تجویز کیا ہے کہ جب کوئی اختلافی سوال کھڑا ہو تو ہر شخص اس پر طبع آزمائی نہ کرے بلکہ اس کو ان لوگوں کے پاس لے جایا جائے جو علم اور تحقیق کے مالک ہیں: وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِّنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ (4:83)۔ یعنی، اور جب ان کے پاس کوئی خبر پہنچتی ہے، امن کی یا خوف کی تو اس کو پھیلا دیتے ہیں۔ اگر یہ اس کورسول تک اور اپنے اصحاب امر تک پہنچاتے تو اس کو وہ لوگ جان لیتے جو تحقیق کرنے والے ہیں۔ یہ اختلاف پیدا ہونے کی شکل میں پہلا قدم ہے۔ لیکن اگر اصحاب علم کی مجلس بھی کسی ایک رائے پر نہ پہنچ سکے تو آخری تدبیر یہ بتائی گئی کہ رائے شماری کے ذریعہ کسی ایک فیصلہ پر پہنچ کر اس کے مطابق عمل کرو: وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38)۔ یعنی، اور ان کا کام باہم مشورہ سے ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الہی قانون کا اندرونی اختلاف صرف ایک علمی مسئلہ ہے، وہ کوئی عملی مسئلہ نہیں۔ الہی قانون میں چونکہ بنیادی اصول طے شدہ ہیں، اس لیے علمی بحثیں اسی کے دائرہ میں ہوں گی ۔ ان بحثوں سے نہ صرف یہ کہ کوئی حقیقی خرابی نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ کئی پہلوؤں سے فکری ارتقاء میں مددگار ہیں۔ جہاں تک عملی ضرورت کے لیے کسی ایک تعبیر کے تعین کا سوال ہے، وہ اجتماعی ادارہ یا پارلیمنٹ کے ذریعہ پوری ہو جاتی ہے۔ نئے پیدا شدہ حالات کے سلسلے میں الہی قانون کی رہنمائی کس طرح حاصل ہوگی، اس کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader