Urdu book · عقلیات اسلام

خاتمہ کا آغاز

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

Bell کی کتاب نظریہ کا خاتمہ (End of Ideology) شائع ہوئی۔ اب 1989ء میں فوکویاما (Francis Fukuyama) کی کتاب تاریخ کا خاتمہ (The End of History) کی اشاعت نے اس موضوع کو از سرِ نو زندہ کر دیا ہے۔ آج کل امریکا میں کثرت سے ایسی کتابیں اور ایسے مضامین شائع ہو رہے ہیں جن کا نام اور عنوان اس قسم کا ہوتا ہے ــــ سائنس کا خاتمہ، کمیونزم کا خاتمہ، ویسٹرنزم کا خاتمہ، نیشنلزم کا خاتمہ، آئیڈیالوجی کا خاتمہ: The End of Science, The End of Westernism, The End of Communism, The End of Nationalism. The End of Liberalism. The End of ideology. جدید انسان کا کہنا تھا کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعہ ایک پرسکون زندگی کے تمام سامان حاصل کر سکتا ہے۔ امریکا میں ساز و سامان عملی طور پر تقریباً حاصل ہو چکا ہے۔ مگر ان سامانھوں نے بالآخر انسان کو جہاں پہنچایا وہ سکون (peace) نہیں تھا، بلکہ صرف بوریت (boredom) تھی۔ یہی ان تمام فلسفوں اور نظاموں کا حال ہوا ہے جن پر انسان نے موجودہ صدی کے آغاز میں پرجوش طور پر بھروسہ کر لیا تھا۔ کمیونزم کو بہت سے لوگوں نے آخری انسانی دریافت سمجھا تھا، مگر اب خود کمیونزم کے مرکز (سوویٹ روس) نے کمیونزم کو ناقص نظام قرار دے دیا۔ مغربی تہذیب مختلف قسم کے لانیخل مسائل (مثلاً عورتوں کی آزادی کے نتیجہ میں خاندانی انتشار) میں پھنس کر رہ گئی۔ نیشنلزم نے مختلف قوموں کو الگ الگ متحارب گروہوں میں بانٹ دیا۔ اس طرح یہ نظریہ عالمی امن کی راہ میں ایک مستقل رکاوٹ بن گیا۔ انسانی نظریہ سازی کا خواب اس صورت واقعہ سے ٹکرا گیا کہ انسان کے ذرائع معلومات لازمی محدودیت کا شکار ہیں۔ اور اس محدودیت کے رہتے ہوئے کوئی کامل نظریہ بنانا ممکن نہیں۔ یہ ایک نہایت عجیب صورت حال ہے جو بیسویں صدی کے خاتمہ پر سامنے آئی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page