خاتمہ کا آغاز
Urdu book, p. 235
By Maulana Wahiduddin Khan
خاتمہ کا آغاز امریکہ میں حالیہ دنوں ایک نئی فکری تحریک ابھری ہے جس کو عام طور پر خاتمیت (endism) کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کا ایک ابتدائی تعارف ٹائمز آف انڈیا (28 اکتوبر 1989 ء) میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مضمون مذکورہ اخبار کے واشنگٹن میں مقیم نامہ نگار مسٹر گوتم ادھیکاری کے قلم سے ہے۔ اس کا عنوان ہے—خاتمہ کا آغاز، کیا تاریخ ٹھہر سکتی ہے: The Beginning of Endism: can History stop? مینیسوٹا کے ایک کالج (Gustarus Adolphus College) میں اکتوبر 1989 ء میں ایک سیمینار ہوا۔ اس سیمینار کا موضوع تھا: سائنس کا خاتمہ (The End of Science)_اس سیمینار کے منتظمین نے اس کے تعارف نامہ میں لکھا تھا کہ جب ہم اپنی آج کی دنیا کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہم کو یہ ناخوشگوارا احساس ہوتا ہے کہ ہم سائنس کے خاتمہ کے دور میں پہنچ چکے ہیں۔ سائنس ایک متحد، عالمی اور موضوعی کوشش کی حیثیت سے اب ختم ہو چکی ہے: As we study our world today, there is an uneasy feeling that we have come to the end of science, that science, as a unified. universal, objective endeavour, is over. امریکہ جدید ترقی یافتہ دنیا کا امام ہے۔ امریکہ کے سابق صدر رہنری ٹرومین نے 1947 ء میں پر فخر طور پر کہا تھا کہ بیسویں صدی امریکہ کی صدی (American century) ہے ۔ اور امریکہ آزاد دنیا (free world) کا لیڈر ہے۔ مگر صدی کے خاتمہ سے پہلے ہی امریکہ کی عالمی لیڈر شپ کا خواب منتشر ہو گیا۔ مذکورہ نئے فکر کا آغاز امریکہ میں 1960 ء میں ہوا جب کہ ڈینیل بل (Daniel

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader