وحی الہام
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
مہاجر چڑیوں کا مطالعہ کرنے والے ایک محقق نے لکھا ہے کہ چڑیوں کی ہجرت کی پروازیں متعین راستوں پر ہوتی ہیں۔ بعض اوقات لمبے فاصلوں پر حد درجہ عمدہ تعین کے ساتھ: افریقہ میں چڑیوں کی مہاجرت کا جو انداز ہے اس میں انوکھا انضباط پایا جاتا ہے۔ مثلاً بعض چڑیاں جو ایک مخصوص حلقہ میں گھونسلے بناتی ہیں جو خط استواء پر مغرب میں سنیگال اور مشرق میں کینیا تک پھیلا ہوا ہے، وہ خاص وقتوں میں شمال کی طرف ہجرت کر جاتی ہیں تا کہ وہ بارش کے موسم سے بچ سکیں: اگلے صفحہ پر ہم ایک نقشہ دے رہے ہیں۔ یہ نقشہ چڑیوں کے بین براعظمی سفر کو بتا رہا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ روس اور دوسرے یورپی علاقوں کی چڑیاں کس طرح سرد موسم میں اپنے علاقے سے نکل کر افریقہ اور ایشیا کے گرم علاقوں کی طرف جاتی ہیں۔ اس لمبے سفر میں انھیں تین سمندروں سے واسطہ پیش آتا ہے ـــ انھیں کیسپین سمندر (Caspian Sea) اور بحر اسود (Black Sea) اور بحر متوسط (Mediterranean Sea) کو پار کرنا پڑتا ہے۔ یہ چڑیاں ایسا نہیں کرتیں کہ بے خبری کے عالم میں بس اپنے مقام سے اڑ کر کسی طرف بھی روانہ ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے وہ نہایت صحت کے ساتھ اس رخ کا تعین کرتی ہیں جو ان کے لیے موزوں ترین ہے۔ وہ نہایت صحت کے ساتھ عین وہ راستے اختیار کرتی ہیں جدھر سے جانے میں انھیں کم سے کم سمندر کے اوپر سے گزرنا پڑے۔ کیوں کہ خشکی پر بوقت ضرورت وہ نیچے اتر سکتی ہیں مگر سمندر میں اترنا ان کے لیے ممکن نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader