Urdu book · عقلیات اسلام

وحی الہام

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

چڑیوں کا یہ سفر نہایت عجیب ہے۔ انسان کے لیے صحیح طور پر ایک مقام سے دوسرے مقام پر جانا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ اس نے راستہ اور منزل کی پوری معلومات خارج سے حاصل کرلی ہوں۔ یہ "خارجی ذریعہ انسان کے لیے دوسروں سے سننا یا دوسروں کی تحقیق کو پڑھنا یا خود بیرونی احوال کا تجربہ کرنا ہے۔ اگر انسان کو تاریخی طور پر جمع شدہ معلومات سے، آپس کے تبادلہ خیال سے، یا تعلیم گاہوں کی تعلیم سے کاٹ دیا جائے تو انسان کچھ بھی نہ کر سکے۔ مثال کے طور پر الادریسی نے زمین کے گول ہونے کا ابتدائی تصور ہندی نظریہ عرین (Arin) سے لیا۔ پھر الادریسی کی کتاب کا لاطینی ترجمہ پڑھ کر یہ فکر کولمبس تک پہنچا۔ پھر کولمبس کے تجربات سے بعد والوں کے علم میں اضافہ ہوا۔ یہ سلسلہ ایک کے بعد ایک اسی طرح بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ جغرافیہ کا علم ترقی کے اس درجہ تک پہنچا جو آج کے انسان کو حاصل ہے۔ آج جب سمندری جہاز کا ایک کپتان وسیع سمندر میں داخل ہو کر اس ساحل سے اُس ساحل تک اپنا جہاز لے جاتا ہے۔ یا ہوائی جہاز کا پائلٹ ایک براعظم سے اڑ کر دوسرے براعظم میں اترتا ہے تو اس عمل کے پیچھے سینکڑوں سال کے انسانی تجربات کا علم شامل ہوتا ہے۔ چڑیاں اس طرح کا کوئی ذریعہ علم نہیں رکھتیں۔ وہ اس قسم کے ذریعہ معلومات سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہیں۔ چڑیوں کے اندر باہم تبادلہ خیال نہیں ہوتا جس طرح انسانوں کے اندر ہوتا ہے۔ اس بنا پر چڑیوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک چڑیا دوسری چڑیا کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنی معلومات کو بڑھائے۔ کوئی چڑیا اپنی معلومات کو کتاب کی صورت میں قلم بند نہیں کرتی کہ دوسری چڑیا اس کو پڑھ کر اس سے رہنمائی حاصل کرے ۔ اس قسم کی ہر سہولت سے کامل محرومی کے باوجود یہ چڑیاں بالکل انسانوں کی مانند سفر کرتی ہیں۔ وہ اس درجہ صحت کے ساتھ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاتی ہیں جیسے کہ ریڈیائی کنٹرول کے ذریعہ کوئی راکٹ خلا میں چلا جا رہا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page