وحی الہام
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
مڑ جاتی ہیں وہ بحرِ کیسین کو کنارے چھوڑتے ہوئے ایک طرف قرا قرَم کی جانب سے اور دوسری طرف کا کیشیا کی جانب سے پرواز کر کے ایشیا میں داخل ہوتی ہیں اور اپنے مطلوبہ مقامات پر اتر جاتی ہیں۔ یہ چڑیاں ٹھیک یہی معاملہ بحر اسود کے ساتھ بھی کرتی ہیں۔ چنانچہ ان کا جھنڈ یہاں پہنچ کر دو ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ ان کا ایک حصہ بحر اسود کے مغربی ساحل سے اور دوسرا حصہ مشرقی ساحل سے اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ایشیائی علاقہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ ایک ماہر طیور نے لکھا ہے کہ یہ بخوبی طور پر الگ الگ راستے غالباً چڑیوں نے اس لیے اختیار کیے ہیں کہ وہ سمندر کے اوپر لمبی پرواز سے بچ سکیں : These well-separated routes are probably a result of the stork's aversion to long flights over water (12/180). اس کے بعد چڑیوں کے تیسرے جھنڈ کا منظر ہے۔ یہ چڑیاں بلغاریہ تک آ کر ترکی کی طرف مڑ جاتی ہیں۔ پھر شام، لبنان اور فلسطین کے ساحلی علاقوں سے ہوتے ہوئے وہ سوئز تک پہنچتی ہیں۔ یہاں سے وہ مصر کی سرزمین میں داخل ہوتی ہیں اور پھر آگے افریقی علاقوں میں چلی جاتی ہیں۔ چڑیوں کا چوتھا جھنڈ یونان کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ جس کی خشکی لمبی نوک کی مانند بہت دور تک سمندر کے اندر چلی گئی ہے ۔ یہ چڑیاں یونان اور کریٹ کی خشکی کا سہارا لیتے ہوئے سمندر میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ سمندر کا وہ مقام ہے جو سب سے کم چوڑا ہے۔ وہ اپنے طویل سفر میں سمندر کو عین اس نقطہ پر عبور کرتی ہیں جہاں جغرافی طور پر اس کی چوڑائی سب سے کم ہو جاتی ہے۔ چڑیاں اس راستہ کو واضح طور پر اس لیے اختیار کرتی ہیں کہ انھیں کم سے کم سمندر کے اوپر پرواز کرنا پڑے۔ یعنی عین وہی وجہ جس کی بنا پر قدیم زمانہ میں انسانی قافلے بیچ سمندر میں اپنی کشتی ڈالنے کے بجائے ” آبنائے“ کے مقام پر سمندروں کو عبور کیا کرتے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader