وحی الہام
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
چڑیوں کا پانچواں جھنڈ وہ ہے جو آگے بڑھ کر اٹلی کے راستے پر مڑ جاتا ہے۔ وہ اٹلی کے اوپر پرواز کرتے ہوئے سسلی میں داخل ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے دائیں اور بائیں سمندر کو چھوڑتا ہوا لمبا راستہ خشکی کے اوپر اوپر طے کرتا ہے اور پھر سسلی کے ساحل سے سمندر میں داخل ہو کر افریقہ میں پہنچ جاتا ہے۔ دوبارہ عین اسی مقام پر جہاں سمندر کی چوڑائی سب سے کم تھی۔ چڑیوں کا چھٹا جھنڈ اس نقشہ میں فرانس کی طرف جاتا ہوا نظر آتا ہے۔ اور پھر وہ اسپین کی طرف مڑ کر خشکی کے اوپر اڑتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جبرالٹر کے پاس پہنچ جاتا ہے، جہاں وسیع سمندر صرف دس میل چوڑا رہ جاتا ہے۔ یہ چڑیاں سمندر کو عبور کرنے کے لیے اس موزوں ترین مقام کا انتخاب کرتی ہیں۔ وہ یہاں پہنچ کر سمندر میں داخل ہوتی ہیں اور آبنائے جبرالٹر کو پار کر کے افریقہ کی زمین پر اتر جاتی ہیں۔ چڑیوں کے یہ اسفار انتہائی حد تک حیرت انگیز ہیں۔ آج کا ایک انسان جب اس قسم کا طویل سفر کرتا ہے تو وہ بہت سے علوم سے مدد لیتا ہے۔ مگر چڑیوں کے اندر نہ انسانی ذہن ہے اور نہ علوم سے مدد لینے کا نظام۔ پھر چڑیاں کیوں کر اس قسم کے پیچیدہ اسفار میں کامیاب ہوتی ہیں۔ ایک ماہر طیور نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے : Birds have evolved a highly efficient means for travelling swiftly over long distances with great economy of energy (12/179). چڑیوں نے نہایت اعلیٰ درجہ کے ارتقا یافتہ موثر ذریعے دریافت کر لیے ہیں تا کہ وہ لمبے فاصلوں پر کم سے کم طاقت خرچ کر کے بخوبی سفر کر سکیں۔ مگر یہ محض الفاظ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چڑیوں کے اندر یا ان کے حالات میں ہرگز ایسے شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ چڑیوں نے کسی ارتقائی عمل کے ذریعہ یہ صلاحیت اپنے اندر پیدا کی ہے۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو اس معاملہ کی توجیہہ کے لیے دو ہی ممکن مفروضے ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ ان چڑیوں کو یورپ اور ایشیا اور افریقہ کے جغرافیہ کا اور اس کی خشکی اور تری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader