Urdu book · عقلیات اسلام

وحی الہام

Urdu book, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

کا مکمل علم حاصل ہو۔ مگر کوئی بھی تحقیق ایسا ثابت نہیں کرتی۔ ہماری تمام معلومات کے مطابق چڑیاں بذات خود کسی بھی قسم کے جغرافی علم سے قطعاً نابلد ہیں۔ اس مفروضہ کو ثابت کرنے کے لیے جو کچھ کہا جاتا ہے وہ محض بے بنیاد قیاس ہے جس کے حق میں کوئی علمی شہادت موجود نہیں۔ اس کے بعد دوسرا ممکن مفروضہ صرف یہ ہے کہ کوئی ’’واقف جغرافیہ‘‘ ان کی رہنمائی کر رہا ہو۔ یہاں کوئی مخفی قسم کا ریموٹ کنٹرول ہو جو چڑیوں کو ٹھیک اسی طرح مسلسل رہنمائی دے رہا ہو جیسے ہمارے غیر انسان بردار ایکٹ کوریڈیائی کنٹرول کے ذریعہ دور سے رہنمائی دی جاتی ہے۔ یہی دوسری صورت زیادہ قرین قیاس ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ واقعہ اس عقیدہ کو پوری طرح قابل فہم بنا دیتا ہے جس کو آسمانی مذہب میں وحی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ جانوروں کی زندگی میں ایسے واقعات ہیں جن کی توجیہ اس کے بغیر نہیں ہوتی کہ یہ مانا جائے کہ ان کو ایک خارجی خزانۂ علم سے رہنمائی مل رہی ہے۔ اسی کا نام مذہبی زبان میں وحی ہے۔ جانوروں کی زندگی کا مطالعہ وحی کے معاملہ کو قابل فہم بنا دیتا ہے۔ اور قرائن کے ذریعہ کسی چیز کا قابل فہم ہونا ہی کافی ہے کہ اس کی واقعیت و صداقت پر یقین کیا جائے۔ وحی کے عقیدہ کا مطلب یہ ہے کہ خدا اپنے مخفی ذریعہ سے ایک انسان پر اپنی رہنمائی بھیجتا ہے۔ یہ رہنمائی بتاتی ہے کہ انسان کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے۔ خدا اور بندہ (پیغمبر) کے درمیان وحی کا یہ اتصال بظاہر دکھائی نہیں دیتا، اس لیے کچھ لوگ کہہ دیتے ہیں کہ ہم کیوں کر اسے مانیں۔ مگر دوسری مخلوقات، مثلاً مہاجر چڑیوں کے سفر کے معاملہ پر غور کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہاں ’’وحی‘‘ کی نوعیت کی رہنمائی موجود ہے۔ ان چڑیوں کا حد درجہ صحت کے ساتھ سفر کرنا ایک ایسا واقعہ ہے جو وحی کے معاملہ کو ہمارے لیے قابل فہم بنا دیتا ہے۔ کیوں کہ چڑیوں کے ان اسفار کی کوئی بھی حقیقی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ یہ مانا جائے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page