Urdu book · عقلیات اسلام

كُن فیکون

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ ایک کمپیوٹر لگا ہوتا ہے اور وہ بہت سے کام خود بخود انجام دیتا ہے۔ مثلاً وہ بتاتا ہے کہ ۔ سیٹ بیلٹ باندھ لیجیے، ایک دروازہ ٹھیک سے بند نہیں ہے، آپ کی تنگی میں ایندھن کم ہے وغیرہ۔ انھیں نئی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ ڈرائیور اپنی کار کو زبانی ہدایات دے سکتا ہے۔ وہ ہاتھ سے کوئی پرزہ چھوئے بغیر زبان سے الفاظ بول کر اس کو کوئی حکم دے سکتا ہے۔ امریکی جنرل اسپین (Span) کی مئی 1984ء کی اشاعت میں اس سلسلہ میں ایک رپورٹ شائع کرتے ہوئے حسب ذیل الفاظ درج کیے گئے ہیں: ...and you can talk to the cars. The Ford Motor Company has developed a system in which voice commands turn on car lights, raise the antenna, start the windshield wipers, or activate other electrical systems. اور آپ اپنی کار سے بات کر سکتے ہیں۔ فورڈ موٹر کمپنی نے ایک سسٹم تیار کیا ہے جس کے ذریعہ زبانی حکم سے کار کی لائٹ جل جاتی ہے، انٹینا اٹھ جاتا ہے، وائپرس چلنے لگتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے برقیا تی نظام متحرک ہو جاتے ہیں۔ یعنی ڈرائیور کو لائٹ جلانی ہے تو وہ اس کا بٹن نہیں دبائے گا بلکہ کہے گا لائٹ جل جا اور لائٹ جل جائے گی۔ ڈرائیور کو وائپر چلانا ہے تو وہ اس کے لیے کسی بٹن پر اپنا ہاتھ نہیں لے جائے گا بلکہ کہے گا وائپر چل جا اور اس کے فورا بعد وائپر چلنے لگے۔ اس مشینی واقعہ سے قرآن کی آیت كُنْ فَيَكُونُ (2:117) آج کے انسان کے لیے قابل فہم ہو گئی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح منہ سے نکلی ہوئی آواز بھی کسی چیز کو وجود میں لاتی ہے۔ اور ایک پورے نظام کو متحرک کر دیتی ہے۔ خدا کے کن فیکون کی اصل حقیقت کو انسان نہیں جان سکتا۔ تاہم موجودہ زمانہ کے مشینی واقعات نے اس کو نہ سمجھنے والوں کے لیے سمجھنے کے قابل بنا دیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page