تمهید
Urdu book, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
تمہید مذہب اور لامذہبیت کی کش مکش اگر چہ اتنی ہی پرانی ہے جتنی انسان کی تاریخ پرانی ہے ۔ تاہم پچھلی صدی سے پہلے اس نے کبھی علمی الحاد کی صورت اختیار نہیں کی تھی۔ انیسویں صدی کا فکری انقلاب اور بالآخر ایک طرف ڈارون (1882-1809ء) اور دوسری طرف مارکس (1883-1818ء) کا ظہور انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ تھاجب کہ الحاد نے یہ کامیابی حاصل کی کہ وہ علمی منطق اور منظم فلسفہ کے زور پر ایک پوری نسل کے ذہن پر چھا جائے اور مذہب کو دفاع کے مقام پر پناہ لینے کے لیے مجبور کر دے۔ الحاد کی ان دونوں لہروں کو الگ الگ سمجھنے کے لیے ہم ایک کو سائنسی الحاد اور دوسرے کو سوشلسٹ الحاد کہیں گے۔ اولاً سائنسی الحاد کو ابھرنے کا موقع ملا اور اس نے دنیا کے تقریباً تمام حصہ کو کسی نہ کسی طرح متاثر کر ڈالا۔ انیسویں صدی کے آخر تک سائنسی الحاد تعلیم یافتہ دنیا کے ذہنوں پر اس قدر چھا چکا تھا کہ کچھ لوگوں کو یہاں تک کہنے کی جرات ہوئی کہ خدا مر چکا ہے (God is dead)۔ اب، کم از کم علمی طور پر، اس کے دوبارہ زندہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ مگر سائنسی الحاد ” آزاد دنیا“ کا الحاد تھا اور آزادانہ غور و فکر کی فضا میں جس طرح ایک نقطہ نظر کو غلط قرار دینے کے مواقع ہوتے ہیں اسی طرح یہ امکان بھی رہتا ہے کہ دوبارہ نئے دلائل کے ساتھ اس کو صحیح ثابت کیا جا سکے۔ مذہب کے ساتھ یہی ہوا۔ بیسویں صدی کی پہلی چوتھائی گزری تھی کہ خود سائنس کی دنیا میں ایسی تحقیقات سامنے آنا شروع ہو گئیں جنھوں نے ان تمام مفروضات کو بالکل منہدم کر دیا جن کے اوپر علمی الحاد کی بنیاد کھڑی کی گئی تھی۔ جولین ہکسلے (1987-1975ء) کی کتاب انسان تنہا کھڑا ہوتا ہے (Man Stands Alone) کے اگلے ایڈیشن کی نوبت بھی نہ آئی تھی کہ امریکی سائنس داں کریسی ماریسن (1946-1884ء) نے اعلان کیا: انسان تنہا نہیں کھڑا ہو سکتا (Man does not Stand Alone)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader