Urdu book · عقلیات اسلام

تمهید

Urdu book, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

وائٹ ہیڈ (1882-1947ء) اور جیمز جینز (1846-1976ء) نے علمی الحاد کے خلاف جو کروسیڈ شروع کی تھی وہ اب اس نوبت کو پہنچ چکی ہے کہ ساری مغربی دنیا کی نئی نسل میں وہ جوابی تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے جس کو غلط طور پر’’اینٹی سائنس‘‘ کہا جاتا ہے۔ کائنات کی ملحدانہ تعبیر بے دلیل ثابت ہوگئی۔ عقلی ذرائع سے اخلاقیات کا کوئی معیار تلاش کرنا ممکن نہ ہو سکا۔ سماجی علوم کسی بہتر انسانی سماج کی تشکیل میں ناکام رہے۔ صنعتی تہذیب انسان کو حقیقی خوشی نہ دے سکی۔ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ اب ساری آزاد دنیا میں مذہب کی طرف واپسی کا رجحان پیدا ہو چکا ہے۔ تقریباً 50 سال کے عارضی وقفہ کے بعد دوبارہ وہ مذہبی دور واپس آنا شروع ہو گیا ہے جو اس سے پہلے دنیا میں پایا جاتا تھا۔ مگر سوشلسٹ الحاد کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ سائنسی الحاد صرف فکری الحاد ہے، سوشلسٹ الحاد اسی کے ساتھ جبری الحاد۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں اشتراکی ملکوں میں کوئی دینی کام کرنا انتہائی دشوار تھا۔ مگر مختلف اسباب کے تحت پچھلے چند سالوں میں حالات کافی بدل گئے ہیں۔ اب روس اور چین میں بھی مذہب کی آزادی تسلیم کر لی گئی ہے اور کم از کم نجی دائرہ میں مذہبی سرگرمیوں کی کھلی اجازت دے دی گئی ہے۔ اس طرح اشتراکی ملکوں میں بھی اب از سر نو دینی کام کے مواقع حاصل ہو گئے ہیں جو اس سے پہلے وہاں حاصل نہ تھے۔ تاہم اس نئے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک ضروری شرط ہے۔ مسلمان اشتراکی ملکوں میں وہ نادانی نہ کریں جو انھوں نے مسلم ملکوں میں کی اور اس کے نتیجہ میں وہ وہاں کے مواقع کو استعمال کرنے سے محروم ہو گئے۔ یہ ہے دینی دعوت کو سیاسی جہاد کے ہم معنی بنانا۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ سیاست اور حکومتی تصادم سے بچتے ہوئے خالص دینی دائرہ میں اپنا کام خاموشی کے ساتھ کریں۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، حالات میں مزید تبدیلی آئے گی۔ جو چیز مستقبل میں ملنے والی ہو اس کو حال میں پانے کی کوشش کرنا ایسا ہی ہے جیسے درخت کے پھل کو درخت کے بیج سے برآمد کرنے کی کوشش کی جائے۔ وحید الدین، 15 نومبر 1989

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page