خفیہ تصویر کشی
Urdu book, p. 67
By Maulana Wahiduddin Khan
اس طرح کے واقعات قرآن کے لفظوں میں ــــ آیاتِ اللہ (خدا کی نشانیاں) ہیں (البقرہ، 2:73) ۔ وہ ’’نشانی‘‘ کے روپ میں حقیقت کا اظہار ہیں۔ یہ واقعات دنیوی تجربہ کے ذریعہ آخرت کے تجربہ کا تعارف کراتے ہیں۔ وہ انسانی سطح پر پیش آنے والے معاملہ کی صورت میں خدائی سطح پر پیش آنے والے معاملہ کو بتا رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ انسان کی خفیہ ریکارڈنگ کی مثال ہے۔ یہی خفیہ ریکارڈنگ زیادہ بڑے پیمانہ پر خدا کی طرف سے ہو رہی ہے۔ انسان کی تمام گزرگاہوں پر خدا کے ’’تار‘‘ لگے ہیں اور اس کے ہر راستہ پر خدا کے ’’کیمرے‘‘ نصب ہیں۔ آدمی جیسے ہی مقررہ حد کو پار کرتا ہے، خدا کی تصویر کشی کا نظام فوراً متحرک ہو کر اس کو محفوظ کرنا شروع کر دیتا ہے۔ آخرت کی عدالت میں اسی ریکارڈ کی بنیاد پر ہر آدمی کے مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ انسان کا بنایا ہوا نظام ہے جو ایک سیکنڈ کے بقدر خلاف ورزی کو بھی فوراً پکڑ لیتا ہے پھر جب انسان کے بنائے ہوئے نظام کا یہ حال ہے تو خدا کے بنائے نظام کی گرفت کتنی زیادہ ہوگی۔ انسانی نظام محدود ہے اور خدائی نظام لامحدود۔ اسی سے دونوں نظاموں کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ آدمی اگر اس سنگین حقیقت پر غور کرے تو اس کے چلتے ہوئے قدم رک جائیں۔ اس کی بولتی ہوئی زبان بند ہو جائے۔ اس کا قلم اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرپڑے۔ دنیا میں آدمی کسی سڑک پر صرف اس وقت تک اپنی گاڑی کو غلط چلاتا ہے جب تک اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس سڑک پر ٹریفک پولیس نے اس کی غلطی کو پکڑنے کا طاقتور انتظام کر رکھا ہے۔ پولیس کے اس انتظام کا علم ہوتے ہی ہر آدمی چوکس ہو جاتا ہے اور اپنی گاڑی کو غلط دوڑانے سے رک جاتا ہے۔ اسی طرح آدمی کو اگر اس بات کا پورا یقین ہو جائے کہ اس کے چاروں طرف خدا کی ’’پولیس‘‘ لگی ہوئی ہے جو ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہی ہے اور اس کی ہر چھوٹی یا بڑی کارروائی کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader