Urdu book · عقلیات اسلام

فطرت انسانی

Urdu book, p. 70

By Maulana Wahiduddin Khan

سجدہ فطرت انسانی کی طلب ہے۔ اس طلب کا حقیقی جواب یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو اپنے خالق و مالک کے آگے جھکا دے۔ مگر انسان اپنی بے خبری کی وجہ سے اپنے آپ کو دوسری دوسری چیزوں کے آگے جھکاتا ہے، جو چیز صرف ایک خدا کا حق ہے اس کو وہ غیر خدا کو دے دیتا ہے۔ پہلی تصویر امریکی کھلاڑی کارل لیویس کی ہے۔ لاس اینجلس میں دوڑ کا عالمی مقابلہ ہوا۔ اس میں 22 جون 1982ء کو کارل لیویس نے اعلیٰ کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد کارل لیویس کی ایک تصویر اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس تصویر کا عکس ہم مقابل کے صفحہ پر نقل کر رہے ہیں۔ اس تصویر میں کارل لیویس بالکل سجدہ کی حالت میں دکھائی دے رہا ہے۔ جس پڑی پر دوڑ کر اس نے یہ مقابلہ جیتا تھا، اس پڑی کے لیے اس کے دل میں عقیدت اور احسان مندی کا اتنا شدید جذبہ پیدا ہوا کہ پڑی پر اپنی پیشانی رکھ کر وہ سجدہ میں گر پڑا۔ یہ ایک تازہ مثال ہے جو بتاتی ہے کہ انسانی فطرت میں کس طرح یہ جذبہ چھپا ہوا ہے کہ وہ کسی کو اپنا محسن سمجھے اور اس کے آگے اپنے بڑے ہوئے جذباتِ عقیدت کو پیش کر سکے۔ یہ مثال وہ تھی جب کہ احساسِ شکر کے تحت آدمی زمین پر گر پڑتا ہے۔ اب دوسری مثال لیجیے جس میں احساسِ عجز نے انسان کو مجبور کیا کہ وہ زمین پر اپنا سر رکھ دے۔ یہ مثال 29 سالہ جان میک انرو کی ہے، وہ امریکہ کے رہنے والے ہیں۔ وہ 1981 سے بیڈمنٹن کے عالمی چیمپئن تھے۔ 24 جون 1988ء کو ان کا مقابلہ آسٹریلیا کے 25 سالہ والی ماسور سے لندن میں ہوا۔ اس مقابلہ میں جان میک انرو کو شکست ہوئی۔ ان کی عالمی چیمپئن کی حیثیت ختم ہو گئی ( ہندوستان ٹائمز، 25 جون 1988ء )۔ جان میک انرو پر اس واقعہ کا زبردست اثر پڑا۔ تاہم انھوں نے اپنی شکست کی ساری ذمہ داری خود قبول کی ۔ انھوں نے کہا کہ میں بالکل بنیادی تقاضے بھی پورے نہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page