Urdu book · عقلیات اسلام

فطرت انسانی

Urdu book, p. 72

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ جذبات انسانی فطرت کے نہایت گہرے جذبات ہیں۔ کوئی بھی انسان اس سے خالی نہیں۔ خواہ وہ بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب۔ انسانی فطرت کا علمی مطالعہ کرنے والے ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ یہ جذبات انسانی فطرت میں اس طرح پیوست (interwoven) ہیں کہ ان کو کسی بھی طرح انسان سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ جذبہ دراصل خدا کی پرستش کا جذبہ ہے۔ اس جذبہ کا مرجع حقیقتاً وہ ہستی ہے جو انسان کی خالق ہے۔ یہ جذبہ اس لیے ہے کہ انسان اپنے خالق و مالک کو پہچانے۔ وہ اس کی عظمت کا اعتراف کرے، وہ اس کے آگے اپنے آپ کو ڈال دے۔ مگر انسان فطرت کے راستہ سے انحراف کرتا ہے۔ جو چیز خدا کو دینا چاہیے وہ اسے دوسروں کو دیتا ہے۔ اسی کا دوسرا نام شرک ہے۔ آدمی اگر اپنے فطری جذبات کا مرجع ایک خدا کو بنائے تو یہ توحید ہے اور اگر وہ ان کا مرجع کسی دوسری زندہ یا مردہ چیز کو بنائے تو یہ شرک ہے۔ توحید انسانی فطرت کا صحیح استعمال ہے اور شرک انسانی فطرت کا غلط استعمال۔ انسان عین اپنی فطرت کے زور پر مجبور ہے کہ وہ کسی کو اپنا’’خدا‘‘بنائے۔ حقیقی خدا چوں کہ ظاہری آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا اس لیے وہ دکھائی دینے والی چیزوں کو خدا سمجھ لیتا ہے۔ جو کچھ خدا کو دینا چاہیے وہ اسے غیر خدا کو دے دیتا ہے۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اور بیسویں صدی کے نصف اول میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ انسانی فطرت کوئی چیز نہیں۔ یہ صرف خارجی حالات ہیں جو انسان کی صورت گری کرتے ہیں۔ مگر جدید تحقیقات اس نظریہ کو غلط ثابت کررہی ہیں۔ اس سلسلہ میں ہم ایک امریکی تحقیق کا حوالہ دیتے ہیں جس کا خلاصہ حسب ذیل الفاظ میں شائع ہوا ہے: Nature Beats Nurture Karl Marx and Sigmund Freud were wrong about human nature. Contrary to their view, inherited qualities are far more important than upbringing in determining personality, a team

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page