بے چین روح
Urdu book, p. 75
By Maulana Wahiduddin Khan
جنوری 1986ء میں بلیر فاولر چند دن کے لیے نئی دہلی آئے۔ یہاں انھوں نے تاج پیلس (ہوٹل) میں ہندوستان ٹائمس کے نمائندہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی زندگی اب ایک مکمل تبدیلی سے دوچار ہو چکی ہے۔ ان کی بیوی ایک کامیاب میڈیکل ڈاکٹر تھیں، اور وہ خود اپنے کیریر کی چوٹی پر پہنچ چکے تھے کہ دس سال پہلے دونوں نے اپنا اپنا کام یک لخت چھوڑ دیا۔ اس کے بعد وہ دونوں شہر سے باہر کیلی فورنیا کے ایک معمولی فارم میں چلے گئے۔ یہاں وہ دونوں بالکل سادہ قدیم دیہاتی انداز میں زندگی گزارتے ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ سے لکڑی کاٹتے ہیں۔ لکڑی کی آگ پر خود اپنے ہاتھ سے کھانا پکاتے ہیں۔ وہ مشینی دنیا سے بھاگ کر فطرت کی دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں اور اپنی اس سادہ زندگی پر بالکل خوش ہیں۔ انھوں نے کیوں ایسا کیا۔ مسٹر بلیر فاولر کے الفاظ میں، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ ہمارا علم جتنا ترقی کرتا ہے اتنا ہی ہم کو اپنی جہالت کا احساس ہوتا ہے: As our knowledge grows the more one gets convinced that he is ignorant. انھوں نے علم کی دنیا میں اپنا سفر شروع کیا تھا۔ مگر آخر کار انھیں معلوم ہوا کہ ان کا ہر اگلا قدم صرف جہالت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انسانی علم آدمی کو حقیقی علم تک نہیں پہنچاتا۔ مزید یہ کہ مذکورہ سائنسی ماحول میں ان کو روحانی سکون حاصل نہ تھا۔ بلیر فاولر کو ایک ایسے احاطہ میں کام کرنا پڑتا تھا جس کے چاروں طرف چار فٹ کی مضبوط دیواریں کھڑی ہوئی تھیں ۔ ان کا کام یہ تھا کہ ہائیڈروجن گیس کو رقیق ہائیڈروجن میں تبدیل کریں۔ اس کے لیے بڑے سخت حالات میں کام کرنا پڑتا ہے۔ نیز ہر وقت یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ گیس کا ذخیرہ پھٹ نہ جائے۔ یہ صورت حال ایک مستقل ذہنی تناؤ کا باعث بنی رہتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا سے کمتر کوئی چیز انسان کو سکون عطا نہیں کر سکتی۔ خواہ وہ سائنسی علوم ہوں یا مادی اور مشینی ترقیاں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader