عقلیات اسلام
Urdu book, p. 74
By Maulana Wahiduddin Khan
سیول(کوریا) میں ستمبر 1988ء میں کھیلوں کے اولمپک مقابلے ہوئے۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں روزانہ با تصویر رپورٹس آ رہی تھیں۔ انھیں میں سے ایک تصویر وہ تھی جو 30 ستمبر کے اخبارات میں شائع ہوئی ۔ مثلاً ٹائمس آف انڈیا، 30 ستمبر 1988ء صفحہ 10۔ تصویر کے مطابق، ایک عورت عین نماز کی حالت میں بیٹھی ہوئی تھی۔ یعنی وہ حالت جو نماز کے خاتمہ پر تشہد کی حالت میں کسی نمازی کی ہوتی ہے۔ اس تصویر میں مذکورہ عورت بالکل نماز کی ہیئت میں دونوں پاؤں توڑ کر بیٹھی ہوئی ہے۔ اور اپنے ہاتھوں کو اٹھا کر منہ کے پاس اس طرح کیے ہوئے ہے جیسے وہ نماز سے فارغ ہو کر دعا میں مشغول ہو۔ یہ کوئی نمازی عورت نہیں ہے۔ یہ کیلی فورنیا کی ایک 27 سالہ کھلاڑی خاتون ہے جس کا نام فلارنس گریفٹھ جائنر (Florence Griffith-Joyner) ہے۔ 29 ستمبر کو 200 میٹر کی دوڑ میں اس نے گولڈ میڈل حاصل کیا۔ اور دنیا کی تیز ترین عورت (fastest woman) قرار دی گئی۔ اس کامیابی کی خبر نے اس کی اندرونی ہستی کو بے قرار کر دیا۔ وہ ابھی اپنے کھیل کے لباس ہی میں تھی کہ وہ زمین پر گر پڑی۔ وہ بے اختیارانہ طور پر نماز کی ہیئت میں بیٹھ گئی اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا سے دعا کرنے لگی اور اس کے سامنے اظہارِ جذبات میں مشغول ہو گئی۔ یہ واقعہ اس بات کا ایک اظہار ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک محسن اور منعم کا تصور نہایت گہرائی کے ساتھ چھپا ہوا ہے۔ آدمی کو جب کوئی غیر معمولی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس کا اندرونی جذبہ بے اختیارانہ طور پر چاہنے لگتا ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائے، وہ اس احسان کو حقیقی محسن کے خانہ میں ڈال دے۔ بے چین روح بلیر فاولر (پیدائش 1921ء) امریکہ کے ایک راکٹ انجینئر ہیں۔ وہ اعلیٰ قابلیت کے ان انجینئروں میں شامل تھے جن کی کوششوں نے آخر کار سیٹرن راکٹ کی شکل اختیار کی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader