Urdu book · عقلیات اسلام

جدید انسان

Urdu book, p. 78

By Maulana Wahiduddin Khan

جن لوگوں کے پاس پیسہ کم ہو وہ بہت سے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے لگتے ہیں کہ مسائل وہی ہیں جو پیسہ کی کمی سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ان کے پاس پیسہ زیادہ جائے تو ان کے تمام مسائل ختم ہو جائیں گے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جس طرح پیسہ کی کمی کے مسائل ہیں اسی طرح پیسہ کی زیادتی کے بھی مسائل ہیں۔ جس شخص کے پاس پیسہ کی افراط ہو جائے اس کے پاس مسائل کی بھی افراط ہو جاتی ہے حتیٰ کہ اس کو سکون کے ساتھ رات کے وقت سونا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس دنیا میں پرسکون زندگی کا راز صرف ایک ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو مذہب کی زبان میں قناعت کہا جاتا ہے۔ یعنی جو کچھ خدا نے دیا ہے اس پر صابر و شاکر رہنا۔ عدم اطمینان دراصل عدم قناعت کی نفسیاتی قیمت ہے جو ہر اُس آدمی کو بھگتنی پڑتی ہے جو خدا کی تقسیم پر راضی نہ ہو۔ عام انسان صرف یہ جانتا ہے کہ اس کا مصرف یہ ہے کہ وہ دولت کمائے ۔ حالانکہ اگر دولت کمانا سب کچھ ہو تو دولت مند آدمی کبھی کسی مسئلہ سے دوچار نہ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دولت حاصل کرنے سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ زندگی کا علم حاصل کیا جائے۔ آدمی کو جینا آ جائے تو وہ ہر حال میں سکون کے ساتھ جی سکتا ہے خواہ اس کے پاس کم پیسہ ہو یا زیادہ پیسہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page