Urdu book · عقلیات اسلام

علم کی واپسی

Urdu book, p. 79

By Maulana Wahiduddin Khan

علم کی واپسی قدیم ترین زمانہ سے انسانی فکر پر مذہب کا غلبہ تھا۔ اسی کے زیر اثر فلسفہ کا رجحان ہمیشہ یہ رہا کہ عالم کی توجیہ کسی نہ کسی طرح روح یا نفس کی اصلاحات میں کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسفہ کی بنیاد ہمیشہ تصوریت (idealism) پر رہی ہے۔ تاہم سائنس کے جدید دور میں ایک خاص عرصہ تک انسانی فکر پر مادیت کا غلبہ ہو گیا۔ قدیم زمانہ میں انسانی فکر کے دو دھارے نہیں تھے۔ مگر موجودہ زمانہ میں انسانی فکر تصوریت اور مادیت کے دو دھاروں میں تقسیم ہو گیا۔ اب موجودہ صدی میں یہ فاصلہ بڑی حد تک ختم ہو گیا ہے۔ وائٹ ہڈ کے الفاظ میں’’ فلسفہ سائنس سے دور ہو گیا تھا۔ مگر اب ذہن اور مادہ کا فرق جیسے جیسے مٹ رہا ہے، فلسفہ دوبارہ اپنی پرانی اہمیت کی طرف واپس آ تا جا رہا ہے‘‘۔ (Science and the Modern world) پروفیسر ہیزن برگ (1976-1901ء) کا شمار جدید طبیعیات کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ انیسویں صدی کے سائنس دانوں کے نزدیک یہ ممکن تھا کہ نفسیاتی مظاہر کی کوئی توجیہ دماغ کی طبیعیات اور کیمیا کے ذریعہ کی جاسکے۔ مگر اب کوانٹم نظریہ کے آنے کے بعد اس کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ بلکہ کوانٹم نظریہ کے متعلق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ فطرت (nature) کی کامل خارجی تشریح کی اجازت ہی نہیں دیتا۔ اس کے بعد ناممکن ہو گیا ہے کہ فلسفہ اور سائنس اپنی متشدد غیر جانب داری (armed neutrality) کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کو اب یا تو دوست بن جانا چاہیے یا دشمن۔ اور ان کے درمیان دوستی اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ سائنس وہ امتحان پاس کرے جو فلسفہ اس سے اس کے مقدمات کی بابت لے گا: They cannot be friends unless science can pass the examination which philosophy must set to its premises. (Physics & philosophy, pp.95-96.)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page