Urdu book · عقلیات اسلام

حقیقت کی تلاش

Urdu book, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت کی تلاش گلیلیو (1642ء - 1564ء) اپنی سادہ دوربین سے چاند کا صرف سامنے کا رخ دیکھ سکتا تھا۔ آج کا انسان خلائی جہاز میں لگے ہوئے دوربین کی مدد سے چاند کا پچھلا رخ بھی پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کل اور آج میں علمی اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ مگر ان جدید معلومات تک پہنچنے کی قیمت بہت مہنگی ہے۔ 10 اکتوبر 1980ء کو نیو میکسیکو میں دنیا کی سب سے بڑی دوربین نصب کی گئی۔ اس کی قیمت 78 ملین ڈالر تھی۔ امریکہ کا ایک خلائی جہاز وایئجر جو دسمبر 1980ء میں زحل (Saturn) پر پہنچا اس کی لاگت 340 ملین ڈالر تھی۔ یورپ میں پارٹیکل فزکس کی بین الاقوامی لیبارٹری (Cern) 1981ء میں مکمل ہوئی ہے، اس کا مقصد اینٹی میٹر کو توڑ کر میٹر میں تبدیل کرنا ہے، اس لیبارٹری کی لاگت 120 ملین ڈالر ہے۔ یہ ادارہ ایک اور زیادہ بڑی تحقیقی مشین تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کی لاگت 550 ملین ڈالر ہوگی۔ پروٹان کی تحقیق کے لیے امریکہ میں ایک مشین بنائی گئی ہے جس کی لاگت 275 ملین ڈالر ہے، وغیرہ۔ پارٹیکل فزنس (ذراتی طبیعیات) میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ 1927ء میں ہونے والی فزکس کا نفرنس میں 32 سائنس داں شریک ہوئے تھے جب کہ 1980ء میں ہونے والی فزکس کانفرنس میں شریک ہونے والے سائنس دانوں کی تعداد 800 تھی۔ امریکن فزیکل سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد 1920ء میں 1300 تھی، 1980ء میں اس سوسائٹی کے ممبروں کی تعداد 30000 تک پہنچ چکی ہے۔ ان جدید تحقیقی کوششوں کا تعلق فلکیات (اسٹرانومی) اور پارٹیکل فزنس (ذراتی طبیعیات) سے ہے۔ ان علوم میں تحقیقات کے نتائج بہت دیر میں نکلتے ہیں۔ تقریباً 50

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page