تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے
Urdu book, p. 90
By Maulana Wahiduddin Khan
تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے ڈاکٹر جے وی نارلیکر (پیدائش 1939ء) سے ایک انٹرویو میں کہا گیا کہ ’’مذہبی توہمات‘‘ کی پرستش میں سائنس داں دوسرے لوگوں سے پیچھے نہیں ہیں۔ حتیٰ کہ کتنے سائنس داں دیوتاؤں تک میں عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس کے جواب میں عالمی شہرت کے سائنس داں ڈاکٹر نارلیکر نے جواب دیا: ”مجھے یہ بات بے حد ناپسند ہے۔ عملاً میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے سائنس داں، جب اپنی تجربہ گاہ میں کام کر رہے ہوتے ہیں تو وہ سائنٹفک نقطۂ نظر کو اپناتے ہیں، مگر جب وہ اپنے گھر جاتے ہیں تو وہ سائنٹفک طریقہ کا بالکل استعمال نہیں کرتے۔ مثلاً، مغرب کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں جیو تش پر عقیدہ پھیل رہا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی مسئلہ ہے۔ انسان کی اس خواہش نے اس کو جنم دیا ہے کہ وہ آسان اور فوری تسکین کو پالے۔ یہ حقیقتاً ایک ذہنی سہارا ہے۔‘‘ (ٹائمز آف انڈیا، 30 اپریل 1979ء)۔ کوئی شخص خواہ جاہل ہو یا عالم، کامیاب ہو یا ناکام، زندگی میں اس کو بار بار ایسے مرحلے پیش آتے ہیں جہاں وہ اپنے عجز کا تجربہ کرتا ہے۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ وہ بے بس وجود ہے۔ یہ چیز اس کو اپنے سے برتر ہستی کی تلاش کی طرف لے جاتی ہے جو اس کی کمیوں کا بدل بن سکے۔ مغرب کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ، جن کے لیے مادی مواقع کے تمام دروازے کھلے ہوتے ہیں ، وہ جب اپنی ’’ذہنی تسکین‘‘ کے لیے مابعد الطبیعاتی عقائد کا سہارا لیتے ہیں تو باعتبار حقیقت یہ فرضی نہیں ہوتا۔ یہ دراصل اپنی فطرت کی خاموش پکار کا جواب ہوتا ہے۔ اگرچہ اپنی تلاش کا صحیح جواب نہ پانے کی وجہ سے وہ ’’جیو تش‘‘ جیسی توہماتی چیزوں میں اٹک جاتے ہیں— خدا کا وجود نہ صرف یقینی ہے بلکہ وہ انسان کے لیے اتنا ضروری ہے کہ اس کے بغیر وہ ایک لمحہ بھی نہیں رہ سکتا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader