مذہب پر علمی استدلال
Urdu book, p. 91
By Maulana Wahiduddin Khan
مذہب پر علمی استدلال قدیم زمانہ میں پانی کو صرف پانی سمجھا جاتا تھا۔ انیسویں صدی میں خوردبین ایجاد ہوئی۔ خوردبین سے جب پانی کو دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ پانی صرف پانی نہیں ہے۔ اس میں بے شمار زندہ بیکٹیریا بھی موجود ہیں۔ اسی طرح آسمان پر جو ستارے نظر آتے ہیں، آدمی نے سمجھا کہ وہ تعداد میں اتنے ہی ہیں جتنا کہ بظاہر ننگی آنکھ سے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ میں جب آسمان کا مشاہدہ دوربین سے کیا گیا تو معلوم ہوا کہ ستارے اس سے بہت زیادہ تعداد میں ہیں جو بظاہر خالی آنکھ سے نظر آتے ہیں۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے قدیم زمانہ اور جدید زمانہ کے فرق کو سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید زمانہ کے یہ مشاہدات یقینی طور پر بتا رہے تھے کہ حقائق اس سے بہت زیادہ ہیں جو انسان نے اپنے سادہ مشاہدہ کے دائرے میں اس سے پہلے سمجھ رکھا تھا۔ مگر جو لوگ ان نئے مشاہدات کو سامنے لا رہے تھے وہ اپنی دریافتوں کی بنا پر اتنے زیادہ جوش میں تھے کہ انھوں نے ایک اور دعویٰ کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ حقیقت وہی ہے جو براہ راست ہمارے مشاہدے میں آئے۔ جو چیز ہمارے براہ راست مشاہدے اور تجربے میں نہ آئے وہ محض مفروضہ ہے، اس کا کوئی وجود نہیں۔ انیسویں صدی میں یہ دعویٰ بہت زور و شور کے ساتھ کیا گیا۔ اس دعویٰ کی زد سب سے زیادہ مذہب پر پڑتی تھی۔ مذہب جن اعتقادات کا مبلغ ہے وہ سب غیبی اعتقادات ہیں، یعنی وہ براہ راست ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں نہیں آتے۔ اس بنا پر بہت سے لوگوں نے سمجھ لیا کہ مذہب ایک فرضی چیز ہے، اس کا کوئی حقیقی وجود نہیں۔ مگر بیسویں صدی کی تحقیقات نے اس صورت حال کو بالکل بدل دیا ہے۔ مزید مطالعہ کے بعد انسان کو یہ معلوم ہوا کہ حقائق صرف اتنے ہی نہیں ہیں جو براہ راست

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader