شانتی یاترا
Urdu book, p. 101
By Maulana Wahiduddin Khan
کنارے قائم کیا تھا۔ یہ ایک پرسکون مقام ہے جہاں کھلے میدانوں اور ہرے بھرے درختوں کے درمیان جگہ جگہ جھونپڑے (huts) بنے ہوئے ہیں۔ اسی میں سے ایک گاندھی جی کا جھونپڑا ہے جو صرف لکڑی اور مٹی کا بنا ہوا ہے۔ تمام جھونپڑوں کے اوپر منگلور ٹائل لگے ہوئے ہیں۔ مہاتما گاندھی کے جھونپڑے کو "بالپوکی" کہا جاتا ہے۔ وہ انتہائی سادہ تھا۔ جنوری ۱۹۷۸ء میں میکسیکو کے آلو ان اچ (Ivan Illich) یہاں آئے تھے۔ وہ بالپوکی کی سادگی سے اتنا متاثر ہوئے کہ وہ روزانہ دیر دیر تک یہاں دھیان لگا کر بیٹھے رہتے تھے تاکہ اس سے روحانی فیض حاصل کریں۔ برٹش گورنمنٹ نے بطور خود یہاں ٹیلی فون لگوایا تھا تاکہ برطانی ذمہ دار مہاتما گاندھی سے بات کر سکیں۔ گاندھی جی کے ایک شاگرد مسٹر ڈسٹرگنیش دتہ کا درے (۷۲ سال) نے بتایا کہ گاندھی جی کی اس غریبی پر امیرانہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ مسٹر گادرے کے بیان کے مطابق، منسر سروجنی نائیڈو (۱۹۴۹-۱۸۷۹ء) نے تقسیم سے پہلے ایک بار کہا تھا کہ گاندھی کی غریبی کو باقی رکھنے کے لئے برلا کو دو ہزار روپیہ روزانہ خرچ کرنا پڑتا ہے: It takes Birla two thousand rupees per day to keep Gandhi poor. واضح ہو کہ یہ پچاس برس پہلے کی بات ہے۔ اس وقت دو ہزار روپیہ روزانہ آج کے لحاظ سے ۲۰ ہزار روپیہ روزانہ سے بھی زیادہ تھا۔ ۲۱ دسمبر کو سیوا گرام کی ایک نشست میں میں نے کہا کہ یہاں کا پورا ماحول سکون اور شانتی کا ماحول ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سکون اور شانتی کا یہی ماحول پورے ملک میں عام ہو جائے۔ میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے آزادی کی تحریک میں عوام کو نان وائلینس (اہنسا) کی بنیاد پر موبیلائز کیا تھا۔ ہم تعمیر ملک کی تحریک کو دوبارہ نان وائلینس کی بنیاد موبیلائز کرنا چاہتے ہیں۔ ۱۹۴۸ء میں جہاں مہاتما گاندھی کا مشن ختم ہوا تھا، وہیں سے دوبارہ ہمیں اپنے عمل کا آغاز کرنا ہے۔ شانتی یا ترا میں میرے ساتھ ایک بڑے ہندو گرو بھی تھے۔ میں نے دیکھا کہ ہر جگہ لوگ ان کے ساتھ غیر معمولی عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور ان سے آشیرواد (برکت) لے رہے ہیں۔ میں نے غور کیا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ اپنے ہی جیسے ایک انسان کو لوگ اتنا زیادہ عظمت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader