شانتی یاترا
Urdu book, p. 100
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام سے ہے اور نہ عقل سے۔ یہ امن کارواں کئی گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ ایک گاڑی میں اچاریہ منی سوشیل کمار، سوامی چیدانند اور میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اس گاڑی کا ڈرائیور ایک مسلمان تھا۔ منتظرین نے گاڑی کے اندر پھل، میوے، چائے وغیرہ کافی مقدار میں رکھ دیا تھا۔ راستہ میں جب بھی کوئی کھانے کی چیز نکالی جاتی تو میں نے دیکھا کہ سوامی چیدانند جی اصرار کے ساتھ مسلمان ڈرائیور کو اس میں شریک کرتے۔ پورے راستہ میں وہ اسی طرح ڈرائیور کے ساتھ بالکل برابری کا سلوک کرتے رہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ ڈرائیور صاحب غلط راستہ پر مڑ گئے۔ کافی آگے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ہم غلط راستے پر آگئے ہیں۔ پھر گھوم کر صحیح سڑک پر آئے۔ اس کی وجہ سے ہم لوگ منزل پر پہنچنے میں ڈیڑھ گھنٹہ لیٹ ہوگئے اور پروگرام بھی گڑ بڑ ہوگیا۔ اس وقت سوامی چیدانند جی نے نہایت تاکید کے ساتھ ہم لوگوں سے کہا کہ منزل پر پہنچ کر کوئی بھی شخص یہ لفظ منھ سے نہ نکالے کہ ہم لوگ صحیح وقت پر روانہ ہوئے تھے مگر ڈرائیور صاحب کی غلطی سے دیر ہوگئی۔ اس کی ذمہ داری ہم لوگ اپنے اوپر لے لیں۔ ڈرائیور پر ہرگز اس کی ذمہ داری نہ ڈالیں ۔ چنانچہ یہی کیا گیا اور ڈرائیور صاحب باز پرس سے بچ گئے ۔ ۲۱ دسمبر کو وردھا پہنچے۔ وردھا کا لفظ پہلی بار تقسیم ہند سے پہلے اس وقت میرے علم میں آیا جب کہ ظفر علی خاں نے مولانا ابو الکلام آزاد پر طنز کرتے ہوئے یہ شعر لکھا تھا: آئیں ابو الکلام جو وردھا سے گھوم کر تحریک آزادی میں وردھا کی بڑی اہمیت رہی ہے۔ کیوں کہ یہاں مہاتما گاندھی نے ایک بستی بسائی تھی جو سیواگرام آشرم کے نام سے مشہور ہوئی ۔ مہاتما گاندھی کے بعد ان کے شاگرد دونوں بھائی ایک عرصہ تک یہاں مقیم رہے۔ دیکھنے سے پہلے وردھا کے بارے میں ایک افسانوی تصور میرے ذہن میں تھا۔ مگر جب شانتی یاترا کے ساتھ میں اس کی سڑکوں سے گزرا تو وہ مجھے عام شہروں جیسا ایک شہر نظر آیا۔ یہاں سے ہم لوگ سیواگرام پہنچے ۔ مہاتما گاندھی نے اپریل ۱۹۳۶ء میں اس کو وردھا شہر کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader