شانتی یاترا
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک آدمی پہلے نعرہ کو دیکھ کر ہندو کو برا کہے گا اور دوسرے نعرہ کو دیکھ کر مسلمان کو۔ مگر میں کہوں گا کہ یہ نعرے ہندوؤں یا مسلمانوں کے نعرے نہیں ہیں۔ یہ نعرے صرف کچھ جاہلوں کے نعرے ہیں۔ ہمارے دیش میں ابھی تک ۷۰ فی صد آدمی جاہل ہیں۔ یہی جہالت تمام جھگڑوں کی اصل جڑ ہے۔ اگر اس ملک سے جہالت کو ختم کر دیا جائے تو اس کے بعد تمام بے فائدہ جھگڑے اپنے آپ ختم ہو جائیں گے۔ جو آدمی بھی ملک میں ترقی چاہتا ہو اس کو چاہئے کہ تعلیم کے کام میں اپنے آپ کو لگا دے۔ ناگپور کو آر ایس ایس کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ یہاں کی تقریر میں میں نے خاص طور پر یہ بات کہی کہ مسائل کا حل ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ تدبیر ہے۔ ناگپور میں جناب عبدالسلام صاحب اور جناب حنیف صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ لوگ اپنے تجارتی مشاغل کے ساتھ دین کا کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ عبدالسلام صاحب نے آکاش بلڈنگ کے نام سے ایک عمارت بنائی ہے۔ اس میں آٹھ اپارٹمنٹ ہیں۔ اور نیچے کے حصہ میں چار دکانیں ہیں۔ گراؤنڈ فلور پر انہوں نے ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد بنائی ہے۔ عمارت اور دکان کے افراد یہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہیں۔ اس کے اندر تقریباً چالیس آدمی نماز پڑھ سکتے ہیں۔ واچ مین کے ذمہ یہ کام ہے کہ وہ وقت پر اذان دیدے۔ فجر کے وقت وہ ہر فلیٹ پر آ کر گھنٹی بجا دیتا ہے۔ اس طرح اس بلڈنگ میں نماز باجماعت کا نظام قائم ہے۔ یہ ایک اچھا نمونہ ہے جو قابل تقلید ہے۔ بھارتیہ جنت پارٹی کے ایک سرگرم ممبر سے گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں نے رام مندر کے نام پر جو آندولن چلایا اور 6 دسمبر کو اس کا جو نتیجہ نکلا، اس کو سامنے رکھ کر آپ سوچیں تو آپ مانیں گے کہ اس معاملہ میں آپ کے لئے چوائس مندر اور مسجد کے درمیان نہیں تھا، بلکہ مسجد اور انار کلی کے درمیان تھا۔ کیوں کہ مسجد کو ڈھکا کہ جو چیز آپ نے پائی ہے وہ حقیقتہ مندر نہیں ہے بلکہ انار کلی ہے جس نے پورے دیش کے مستقبل کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کو دیش سے محبت ہے تو آپ لوگوں کو وہی کرنا چاہئے جو ۱۹۲۲ء میں مہاتما گاندھی نے کیا تھا۔ انھوں نے اہنسا کی بنیاد پر نان کو آپریشن کی تحریک چلائی۔ مگر جب چوراچوری کے مقام پر کانگریسی کارکنوں نے تشدد کا واقعہ کیا تو انھوں نے فوراً ہی اپنی تحریک روک دی اور اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader