Urdu book · اسفارِ ہند

شانتی یاترا

Urdu book, p. 104

By Maulana Wahiduddin Khan

کو ہمالیائی غلط اندازہ (Himalayan miscalculation) قرار دیا۔ آپ لوگوں کے لئے صرف افسوس کا اظہار کافی نہیں۔ آپ کو چاہئے کہ اپنی تحریک کو مکمل طور پر روک دینے کا اعلان کریں۔ اس سے کم درجہ کی کوئی بھی چیز آپ کے لئے کافی نہیں ہو سکتی۔ ناگپور میں شانتنی یاترا ختم ہو گئی ۔ اب ہمیں ناگپور سے دہلی واپس جانا تھا۔ مگر پائلٹوں کی ہڑتال کی وجہ سے تمام ملک میں پروازیں معطل ہو رہی ہیں۔ صرف ٹرنک روٹ پر شکل سے پروازوں کا سلسلہ باقی رکھا جا سکا ہے۔ اس لئے ہم لوگوں نے طے کیا کہ ناگپور سے بمبئی جائیں۔ اور بمبئی سے دہلی کے لئے ہوائی جہاز پکڑیں۔ ناگپور سے دہلی پہنچنے کے لئے ہمیں صرف ۰۹۵ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ مگر ناگپور سے بمبئی اور پھر بمبئی سے دہلی کا راستہ اختیار کرنے کی وجہ سے ہماری منزل اے ۳۲ کلومیٹر لمبی ہو گئی۔ قریب جب قابل عمل نہ ہو تو ” دور “ ہی زیادہ قریب بن جاتا ہے۔ ۲۲ دسمبر کو ہم لوگ انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۴۷ کے ذریعہ ناگپور سے بمبئی پہنچے۔ یہاں قیام کرنے کے بعد ۲۳ دسمبر ۱۹۹۲ کو انڈین ایئرلائنز کی فلائٹ ۸۳ اے کے ذریعہ دہلی واپسی ہوئی ۔ دہلی پہنچنے کے بعد بظاہر شانتنی یاترا ختم ہو گئی۔ مگر میں نے سوچا کہ اصل کام تو اب شروع کرنا ہے۔ یعنی شانتنی یاترا کے تجربہ کو مزید آگے بڑھانا ہے۔ چنانچہ مسٹر شانتنی لال موتھانے نے کہا کہ ہم اس شانتنی آندولن کو پورے دیش میں چلائیں گے۔ بمبئی کے ٹائمس آف انڈیا (۲۲ دسمبر) کے درمیانی صفحہ پر دو مضمون چھپے ہوئے تھے۔ ایک امولیا گنگولی کا تھا۔ اس مضمون میں ملک کے لوگوں کی غیر سنجیدہ سوچ کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر اٹل بہاری واجپئی کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا تھا کہ ہوش و حواس کی بات کون سنتا ہے : Who's going to listen to the voice of sanity. انھوں نے ملک کی تاریک صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا تھا کہ اگر یہی حالت باقی رہی تو اجودھیا کے واقعہ کے بعد انڈیا اعتباری بحران (credibility crisis) میں مبتلا ہو جائے گا۔ انڈیا دوسرا لبنان یا دوسرا یوگوسلاویہ بن جائے گا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ۔ میں نے کہا کہ عربی کا ایک مثل ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page