ودیش کا سفر
Urdu book, p. 109
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹرین میں داخل ہو کر میں اپنی برتھ پر سو گیا۔ قدیم زمانے میں آدمی کو جاگ کر سفر کرنا پڑتا تھا آج آدمی سوتا ہے اور اسی کے ساتھ اس کا سفر بھی تیز رفتاری کے ساتھ طے ہوتا رہتا ہے۔ جانور اپنے پاؤں سے چلتے ہیں۔ چڑیاں اپنے بازوؤں سے اڑتی ہیں۔ مگر انسان کے ساتھ کرنا بنی آدم کا معاملہ کیا گیا ہے۔ پہلے زمانے میں انسان جانوروں کی پیٹھ پر سواری کرتا تھا۔ اب وہ مشینی پہیہ یا مشینی بازو کے اوپر سفر کرتا ہے۔ ۱۲ جنوری کی صبح کو نیند کھلی تو ودیش کا ریلوے اسٹیشن قریب آچکا تھا۔ پلیٹ فارم پر اترتے ہی کانفرنس کے منتظمین مل گئے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر شہر آیا۔ یہاں میرا قیام مٹر میٹھا کے مکان پر تھا۔ ودیشا ایک نہایت قدیم تاریخی شہر ہے۔ وہ دہلی سے ساڑھے چھ سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے، ودیشا کی قدامت کا اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قدیم سنسکرت کتابوں، مہا بھارت اور رامائن میں اس کا حوالہ پایا جاتا ہے۔ موربہ اور گپت راج کے زمانہ میں وہ ایک زبردست مذہبی ، اقتصادی اور سیاسی مرکز تھا۔ ۱۲۳۵ میں وہ مسلمانوں کے قبضہ میں آیا۔ ۱۹۴۷ کے بعد وہ ریاست مدھیہ پردیش کا ایک حصہ ہے۔ ودیشا میں کثرت سے بدھزم کے آثار پائے جاتے ہیں۔ کچھ بدھسٹ اسٹو پاہاں ایسے ہیں جن کی تاریخ دوسری صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ ودیشا کے آس پاس کے علاقوں میں بھی دور تک قدیم آثار کھنڈر کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ودیشا کے یہ آثار گویا اپنی خاموش زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی کا حال خواہ کتنا ہی شاندار ہو، اس کا مستقبل بہر حال کھنڈر ہو کر رہتا ہے۔ اس میں استثنا صرف ان لوگوں کا ہے جو فانی چیزوں سے بلند سطح پر اپنے لئے زندگی کا راز دریافت کرلیں۔ رہائش گاہ پر کئی تعلیم یافتہ ہندو جمع ہوگئے ۔ ان سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ وہ لوگ زیادہ تر اسلام کے بارہ میں سوالات کرتے رہے۔ ایک صاحب نے شاہ بانو بیگم کے معاملہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں اگر ایسا حکم ہے تو وہ بڑی نا انصافی کی بات ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے کر اسے گھر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader