ودیش کا سفر
Urdu book, p. 108
By Maulana Wahiduddin Khan
ودیش کا سفر ۳ جنوری ۱۹۹۳ کا واقعہ ہے۔ میں دہلی میں اپنے دفتر میں تھا کہ دو اجنبی آدمی اندر داخل ہوئے۔ اس دن سے پہلے میں ان سے بالکل ناواقف تھا۔ وہ بھی اس سے پہلے میرے بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے۔ انھوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ وہ مذہبی پردیش کے تاریخی شہر ودیشا کے رہنے والے ہیں۔ سوامی ویویکانند کے جنم دن ۱۲ جنوری کو ودیشا میں ایک جلسہ کر رہے ہیں ۔ اسی سلسلہ میں وہ دہلی آئے تھے۔ انھوں نے اپنا نام ـ و میل کمار اور پترو ایشیشی (Pitru Ashishi) بتایا۔ ان سے میرے تعارف کا ذریعہ دہلی کے ہندی اخبار جن ستا کا ایک شمارہ تھا۔ انھوں نے بتایا کہ آج کے جن ستا میں ہم نے آپ کا ایک انٹرویو پڑھا۔ اس سے پہلے ہم آپ کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ مگر اس انٹرویو کو پڑھ کر ہمیں یقین ہو گیا کہ اپنے جلسہ کے لئے ہمیں جس اسپیکر کی تلاش تھی وہ بس آپ ہی ہیں۔ اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہماری دعوت کو قبول کریں اور ۱۲ جنوری کو ودیشا آکر ہمیں مارگ درشن کرائیں۔ آپ ہی اس میں مین اسپیکر ہوں گے ۔ یہ میرے لئے ایک مشکل مسئلہ تھا۔ اس وقت مذہبی پردیش سے فرقہ وارانہ فساد کی خبریں آ رہی تھیں۔ مذکورہ حضرات سے براہ راست کوئی واقفیت نہ تھی۔ ودیشا کا بھی میں نے صرف نام سنا تھا۔ تاہم مذکورہ صاحبان کے مخلصانہ اصرار پر میں نے ان کی دعوت منظور کر لی۔ اا جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو بذریعہ مالوہ ایکسپریس دہلی سے ودیشا کے لئے روانگی ہوئی ۔ ریلوے اسٹیشن پہنچا تو حسب معمول انسانوں کی بھیڑ ادھر سے ادھر دوڑتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ آج کا انسان اپنی معاشی دوڑ میں اتنا زیادہ مشغول ہے کہ اس کو کسی اور بات کے بارہ میں غور کرنے کی فرصت نہیں۔ اس پر ٹھہراؤ کا لمحہ صرف اس وقت آتا ہے جب کہ وہ موت سے دو چار ہوتا ہے۔ مگر جب موت کی گھڑی آ جائے تو کہنے کا وقت بھی ختم ہو جاتا ہے اور سننے کا وقت بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader