ودیش کا سفر
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لئے ایک "پراسرار قوت" کا کام کرتی ہے مجھے ایک "مسلم مولانا" کی تلاش تھی۔ کیوں کہ اجودھیا کے بعد ملک میں جو سنگین مسئلہ پیدا ہوا ہے، اس کو ایک مسلمان عالم ہی حل کر سکتا ہے۔ میرا یقین ہے کہ میں نے آپ کی ذات میں اس مسلمان عالم کو پالیا ہے۔ مسٹر مدھو مہتا بمبئی کے ممتاز افراد میں سے ہیں۔ ان کے تعلقات اعلیٰ سطح کے ہندوؤں سے ہیں۔ وہ ہندوستانی اندولن کے چیئرمین ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آپ بمبئی آئیے۔ وہاں آپ اپنا "اصلاحی پروگرام" پیش کیجئے۔ اس سلسلہ میں میں آپ کو ہر طرح کی سپورٹ دلواؤں گا۔ چنانچہ اس کے بعد انھیں کے زیر اہتمام بمبئی کے لئے میرا کئی سفر ہوا۔ ہر سفر خدا کے فضل سے غیر معمولی طور پر کامیاب رہا۔ ۱۳ مارچ ۱۹۹۳ کو میں بذریعہ ٹرین دہلی واپس آیا۔ ٹرین اس نئے دور کی ایک علامت ہے جب کہ انسانی تمدن کو حرکت دینے کے لئے مشینی پہیہ حاصل ہو گیا۔ کمیونی کیشن کے اس انقلاب میں ٹرین اب بہت پیچھے کی چیز ہو چکی ہے۔ تاہم آج بھی اس زمین پر ایسے لوگ موجود ہیں جو اگرچہ بظاہر ہوائی جہاز میں سفر کرتے ہوں، مگر اپنی سوچ کے اعتبار سے وہ ٹرین سے بھی پیچھے کے دور میں جی رہے ہیں۔ جسم کے اعتبار سے وہ بیسویں صدی کے مسافر ہیں مگر اپنے شعور کے اعتبار سے صرف پچھلی صدی کے مسافر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader