Urdu book · اسفارِ ہند

اسفارِ ہند

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

سفر ورندا بن کچھ تعلیم یافتہ ہندو صاحبان نے ورندا بن میں ایک چار روزہ سموداپری اس کا انتظام کیا تھا اس کی دعوت پر ورندا بن اور متھرا کا سفر ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد حسب ذیل ہے۔ ۴ جنوری ۱۹۹۳ کی صبح کو ہم لوگ بذریعہ کار دہلی سے ورندا بن کے لئے روانہ ہوئے۔ ہمارے قافلہ میں چار آدمی تھے ــــ ڈاکٹر راجکمار بھاٹیا ، ڈاکٹر ہتیش شرما ، ڈاکٹر سریندر شرما، اور راقم الحروف۔ یہ گاڑی ڈاکٹر بھاٹیا پر و فیسر جواہر لال نہرو یونیورسٹی ، کی تھی اور وہ خود ہی اس کو چلا رہے تھے۔ راستہ میں مختلف موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ قافلہ کے دو آدمی جے پر کاش نرائن (۱۹۷۹ - ۱۹۰۲) کے ساتھیوں میں سے تھے ، چنانچہ زیادہ تر گفتگو کا موضوع جے پر کاش نرائن کی ذات اور ان کا مشن رہا۔ میں نے کہا کہ جے پر کاش کو تھنکر کہا جاتا ہے۔ مگر ان کو تھنکر کہنا بہت مشکل ہے۔ میں کبھی ان سے ملا نہیں۔ مگر ان کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں بار بار اپنا نظریہ بدلتے رہے اور آخر وقت میں فکری بے اطمینانی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ ایسے آدمی کو سیکیر (seeker) کہنا چاہئے نہ کہ تھنکر۔ میں نے کہا کہ ۷۷، ۱۹ کے الیکشن میں جے پر کاش نرائن نے ٹوٹل ریولیوشن (پورن کرانتی) کا نعرہ دیا۔ انھوں نے اپنی تقریروں میں یہ تاثر دیا کہ کانگریس پارٹی کو الیکشن میں ہرانا ہی دیش میں پورن کرانتی لے آنا ہے۔ مگر واقعات نے ثابت کیا کہ یہ محض ان کی سادگی یا خوش فہمی تھی۔ الیکشن میں کانگریس مکمل طور پر ہار گئی ، اس کے باوجود مکمل انقلاب نہ آسکا۔ الیکشن کی ہار جیت سے کسی ملک میں مکمل انقلاب نہیں آیا کرتا۔ اگر جے پر کاش نرائن تھنکر ہوتے تو وہ پیشگی طور پر اس کو جان لیتے ، مگر وہ اس کو نہ جان سکے۔ ایک صاحب نے جواب میں کہا کہ جے پر کاش نرائن بنیادی طور پر ایک شریف اور دیانتدار آدمی تھے۔ وہ فوری تاثر کے تحت ایک رائے قائم کرتے اور پھر کچھ دن بعد نئی رائے بنا لیتے تھے۔ یہ سب کچھ انسانی ہمدردی کے تحت ہوتا تھا۔ میں نے کہا کہ اگر اس کو مان لیا جائے تو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page