Urdu book · اسفارِ ہند

پونہ کا سفر

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو گویا سواری کی زندہ مشین ہے۔ اس کے بعد انسان پر اسٹیم اور پٹرول کی طاقت منکشف کی جس کے نتیجہ میں ٹرین اور کار بنے۔ اور آخر میں ہوائی جہاز جیسی تیز رفتار سواری اس کو عطا کی۔ اس تدریجی طریق کار کے نتیجہ میں ایسا ہو کہ پیغمبروں میں سے کسی بھی پیغمبر کے لئے کار اور ہوائی جہاز پر بیٹھنا ممکن نہ ہو سکا۔ پیغمبر تمام انسانوں میں سب سے زیادہ مقدس لوگ تھے۔ مگر ان کے تمام تر تقدس کے باوجود خدا نے ان کے لئے اپنے قانون تدریج کو نہیں توڑا۔ اس سے خدا کی سنت کا اندازہ ہوتا ہے۔ تدریج اس دنیا کے لئے خدا کا اٹل قانون ہے۔ وہ کسی بھی وجہ سے اور کسی کے لئے بدلا نہیں جاتا۔ یہاں لوگوں نے بتایا کہ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۱ کو پونہ میں گنیش چتر تھی کا جلوس نکلنے والا تھا۔ اسی دن ۱۲ ربیع الاول کی تاریخ بھی تھی۔ اگر دونوں جلوس ایک دن نکلتے تو یقینی تھا کہ پونہ میں فرقہ وارانہ فساد ہو جائے اور جشن کا دن غم کے دن میں تبدیل ہو جائے۔ پونہ کی سیرت کمیٹی نے مشورہ کر کے یہ فیصلہ کیا کہ ہم لوگ اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ چنانچہ انہوں نے میلاد النبی کا جلوس چند دن موخر کر کے ۷ ستمبر کو نکالا۔ اس طرح دونوں جلوس پر امن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ اس واقعہ پر پولیس کے لوگ اور ہند و حضرات بہت خوش ہوئے۔ اور مسلمانوں کی دانشمندی کی تعریف کی۔ اس طرح دونوں جلوس پر امن طور پر دو الگ الگ تاریخوں میں نکلے اور کسی ٹکراؤ کی نوبت نہیں آئی۔ سیرت کمیٹی پونہ نے اپنے فیصلے کی اطلاع مراٹھی اخباروں میں شائع کرا دی تھی۔ اس سے پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں کو اس کی خبر ہوگئی۔ چنانچہ کئی مقامات پر مسلمانوں نے یہی کیا کہ اپنے جلوس کی تاریخ بدل دی۔ اس طرح پورا مہاراشٹر فساد کے خطرہ سے بچ گیا۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں نے اب نیا فیصلہ کیا ہے۔ اب وہ رد عمل کی پالیسی ترک کر رہے ہیں اور اس کے بجائے اعراض کے طریقہ کو اپنی پالیسی کے طور پر اختیار کر رہے ہیں۔ پونہ میں ایک صاحب نے کہا کہ مجھے "شتم رسول" کے مسئلہ پر آپ سے سوال کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ فرمائیے۔ اس کے بعد جب وہ بولے تو انہوں نے ایک پوری تقریر کر ڈالی۔ انہوں نے اپنے مفروضہ محض یقین کے اوپر الزام تراشی بھی کی۔ ان کی پر جوش تقر یختم ہوئی تو میں نے نرمی کے ساتھ کہا : یہ اسلام نہیں ہے کہ آدمی توہیر رسول کے مسئلہ کو جانے مگر وہ تحقیر مسلم کے مسئلہ سے بے خبر ہو۔ تقسیم ملک (۱۹۴۷) سے پہلے ایک بار کسی سفر کے دوران میں پونہ ریلوے اسٹیشن سے گزرا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page