پونہ کا سفر
Urdu book, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ اس وقت میں نے چلتی ہوئی ٹرین سے پونہ شہر کی ایک جھلک دیکھی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ریلوے لائن کے کنارے مجھے کچھ بنگلے دکھائی دئے جن کے اوپر پھول دار بیلیں چڑھی ہوئی تھیں۔ اس مشاہدہ میں پونہ مجھے ایک افسانوی شہر نظر آیا تھا۔ میرے ذہن میں یہ تاثر قائم ہوا تھا کہ پونہ خوب صورت مکانات کا ایک شہر ہے جو چاروں طرف پھول اور سبزہ سے ڈھکا ہوا ہے۔ مگر اے 19 میں جب پہلی بار میں نے پونہ کا سفر کیا اور شہر کے اندرونی حصوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ پونہ بھی ویسا ہی ایک شہر ہے جیسا کہ ہندوستان کے دوسرے شہر۔ دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی اگر خوبصورت مکانات ہیں تو اس کے ساتھ تنگ اور بے کشش مکانات کی قطاریں بھی۔ یہی بات انسان کے بارہ میں بھی ہے۔ کسی انسان سے ابتدائی ملاقات میں وقتی طور پر جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ اکثر حالات میں نہایت ناقص بلکہ خلاف واقعہ ہوتا ہے۔ سنجیدگی اور احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ وقتی تجربہ کی بنا پر کبھی کل رائے قائم نہ کی جائے۔ اسی قسم کی رائے کو شریعیت میں ظن کہا گیا ہے۔ کسی شہر کے بارہ میں ظن کے تحت رائے قائم کرلی جائے تو اس میں کوئی اخلاقی برائی نہیں۔ مگر انسان کے بارہ میں ظن کے تحت رائے قائم کرنا بے حد سنگین ہے۔ کیوں کہ اس میں اخلاقی پہلو شامل ہے اور وہ آدمی گناہ گارہ کے درجہ تک پہنچ سکتا ہے (الحجرات ۱۲) ۲ نومبر کی شام کو انعام دار صاحب کے مکان پر دیر تک نشست ہوئی۔ جناب انیس چشتی صاحب اور دوسرے صاحبان آگئے تھے۔ میں زیادہ تر لوگوں کی باتیں سنتا رہا۔ انیس چشتی صاحب تحریک پیام انسانیت سے وابستہ ہیں اور انھوں نے ملک کے مختلف گوشوں کا سفر کیا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا ملک میں کوئی شخص یا ادارہ ایسا ہے جو مخصوص طور پر غیر مسلموں میں دین پہنچانے کا کام کر رہا ہو۔ انھوں نے کہا نہیں۔ ایسا تو کوئی بھی نہیں۔ یہ بلاشبہ انتہائی سنگین صورت حال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے درمیان دوسری سرگرمیاں تو جاری ہیں مگر وہی اصل کام انجام نہیں دیا جا رہا ہے جو ہماری امت محمدی ہونے کی حیثیت کو مستحق کرتا ہے۔ انعام دار صاحب (پیدائش ۱۹۲۵)، نہایت ذہین آدمی ہیں۔ انھوں نے کئی قیمتی باتیں کہیں۔ انھوں نے کہا کہ چودہ سو سال پہلے قرآن میں اقرأ کا حکم آنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ خدائی کلام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader