ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
سے کھلوانا چاہتے ہیں کہ میں ہندو ہوں۔ 6 دسمبر کو اجودھیا میں جو ہوا اس سے سارے دیش میں الگاؤ واڈ بڑھے گا۔ اس میں شک نہیں۔ پھر دیش کہاں جائے گا۔ اگر اجودھیا بات نہیں رکتی تو اس کے بعد کیا ہو جائے گا، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اب کیا کرنا چاہئے، اس کے لئے میرے پاس کوئی سمجھاؤ نہیں ہے۔ لیکن اگر بات ایودھیا پر رک جائے تو نئی شروعات ہو سکتی ہے۔ وہ جو مانگ ہے کاشی اور متھرا کی، اسے تو چھوڑ دینا چاہئے۔ اگر ہم اس کو نہیں چھوڑ سکتے تو پھر تو مجھ کو اندھکار ہی اندھکار دکھائی دیتا ہے۔ ورندا بن ہندوؤں کا مقدس شہر ہے۔ یہاں تقریباً پانچ ہزار مندر ہیں، کئی سو کی تعداد میں آ شرم ہیں۔ یہاں ہمارا قیام گیتا آ شرم میں تھا۔ اس نام سے تقریبأ دو درجن آ شرم مختلف مقامات پر ہیں۔ ان سب کا ہیڈ کوارٹر ہر دوار میں ہے۔ مقامی سنسکرت و دیالیہ کے ۲۰ طلبہ آ شرم کے ہوسٹل میں رہتے ہیں۔ یہ سب برہمن کے لڑکے ہیں۔ یہاں تعلیم و تربیت پانے کے بعد وہ اپنے وطن چلے جائیں گے اور وہاں پنڈت کا کام سنبھالیں گے۔ ان کی ضرورت کی تمام چیزیں یہاں مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ آ شرم کی تعمیر بالکل جدید انداز میں ہوئی ہے۔ پورا فرش سنگ مرمر کا بنا ہوا ہے۔ طلبہ کو نہایت صاف ستھرا کھانا دیا جاتا ہے۔ اس کا رسوئی گھر مجھے بہت پسند آیا۔ یہاں روزانہ تقریباً تین سو آدمی کا کھانا تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑے کمرہ میں واقع تھا۔ میں نے اندر کی طرف دیکھا تو درمیان میں ایک بڑا سا چو کور توار کھا ہو اتھا۔ اس کے اوپر بیک وقت پندرہ روٹیاں پکائی جا سکتی ہیں۔ توے کے نیچے گیس کا چولھا جل رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ آ شرم کے پاس چالیس گیس سلنڈر کا لائسنس ہے۔ آ شرم کے طلبہ صبح ۴ بجے اٹھ جاتے ہیں۔ ہر لڑکا سب سے پہلے استنان کرتا ہے۔ کپڑا بدلتا ہے۔ اس کے بعد تیار ہو کر ایک بڑے کمرہ میں سب کے سب جمع ہو جاتے ہیں۔ یہاں سوامی او شیشا نندان کو گیتا کا پاٹھ کراتے ہیں۔ آخر میں سب مل کر ایک ہندی نظم پڑھتے ہیں۔ آر ایس ایس کے ایک دانشور نے کہا کہ دیش بنانا ہے، یہی اصل مزہ ہے۔ ’’دیش بنانا ہے‘‘ یہ کام میرے حساب سے دس بارہ سال سے نہیں ہورہا ہے۔ کون بنا رہا ہے، کون بنائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader