ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ اس طرح اپنے اپنے کاموں میں سر گرم تھے جیسے کہ وہ ہمیشہ سر گرم رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ وہ چیز جس سے لوگ بُہوت کے ہیں وہ تو صرف کانفرنس کے کمرہ کی گونج ہے۔ وہ بس ایک وقتی آواز ہے جو کبھی کبھی اخباروں میں چھپ جاتی ہے۔ اس کے سوا بقیہ ساری انسانیت اور بقیہ تمام کائنات کے لئے وہ گویا ایک نہ ہونے والی بات (non-event) ہے۔ اس قسم کے الفاظ سے غیر متاثرہ رہ کر وہ اپنے فطری راستہ پر چل رہی ہے۔ جو واقعہ وسیع تر دنیا کے اعتبار سے اتنی کم اہم ہو اس پر مشتعل ہونے کی کیا ضرورت۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم لوگ تنتر کی بات کرتے ہیں۔ مگر ہم اس کو زور زبردستی سے لانا چاہتے ہیں۔ یہ تو متضاد بات ہے۔ جب جب ہم کرو انے اور منوانے کی بات کرتے ہیں تو ہم ہنا کی بات کرنے لگتے ہیں۔ پھر سوال یہ ہے کہ ہم کیا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کو اس دیش میں لوگ تنتر لانا ہے یا ہنساد لانا ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ جسے پرکاش کے اندولن میں ہم لوگ بہت بڑی تعداد میں جڑے تھے ، ہم کو آشا تھی کہ اس سے کچھ اچھا نکلے گا۔ مگر بے پر کاش یہ کہہ کر مرے کہ میری تو کوئی سنتا نہیں۔ اسی طرح گاندھی بھی آزادی کے بعد یہ کہہ کر مرے کہ اب میری نہیں چلتی۔ ایک صاحب نے کہا کہ اگر انگریز کا راج بُرا تھا تو بابر کا راج کیوں برا نہیں تھا۔ انگریزوں کی حکومت اگر غلامی تھی تو بابر کی حکومت کیوں غلامی نہیں تھی۔ ایک صاحب نے اپنی تقریر ہر ان الفاظ کے ساتھ شروع کی؛ میں تو سننے کے لئے آیا ہوں۔ اس کے بعد انھوں نے بولنا شروع کیا تو سب سے زیادہ لمبی تقریر ا نھیں نے کی۔ مزید یہ کہ سب سے زیادہ زور زور سے بھی وہی بولے۔ گاندھی جی کے پوتے راج موہن گاندھی نے کافی مایوسا نہ انداز میں تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کے سب لوگ بھارتیہ ہیں، یہ میں مانتا ہوں۔ مگر مجھے ایسا لگتا ہے کہ بہت سے لوگوں کی سوچ یہ نہیں۔ آج ہی میں نے اخبار میں پڑھا کہ بمبئی کے کچھ نوجوانوں نے کچھ لوگوں کو پکڑ ا اور ان سے زبردستی ”جے شری رام کہلایا۔ اب سوال یہ ہے کہ ہم لوگوں کو آزادی دینے کے لئے تیار ہیں یا نہیں۔ اگر اس دیش کا مسلمان اپنے آپ کو ہند و نہیں کہتا تو کیا زبردستی اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader