ناگپور کا سفر
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر سریندر شرما۔ ورندابن (۶۵ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے متھرا کے بارہ میں حسب ذیل کہانی سنائی: یہاں پہلے سے کیشو دیو جی کا مندر تھا۔ اس کو کیشو دیو کٹرا کہا جاتا تھا۔ اورنگ زیب نے اس مندر کو توڑا اور اسی کی نیو پر مسجد بنائی۔ مرہٹہ کا راج ہوا تو انھوں نے اس کو نزل بھول بھولی ڈ کلیئر کر دیا۔ مگر بنوایا نہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ادھیکار آگیا تب بھی نزل بھول بھولی رہی۔ کمپنی کے زمانہ میں نیلامی ہوئی۔ تقریباً چودہ سوروپیہ میں راجہ ٹینی مل نے سارے چھيتر کو خرید لیا۔ پھر اس کے بعد اسی چھيتر میں ریلوے لائن نکلی۔ ریلوے لائن نے معاوضہ راجہ کو دیا۔ مسلمانوں نے برٹش گورنمنٹ کے ٹائم میں دعوٹی پیش کیا کہ اس کو نہیں دیا جائے ۔ لو رکورٹ میں مقدمہ خارج کر دیا گیا۔ ہائی کورٹ میں بھی خارج ہو گیا۔ ۱۹۲۸ میں مسلمانوں کی طرف سے پھر مقدمہ دائر کیا گیا ۔ ۱۹۳۲ میں فیصلہ ہوا۔ اس فیصلہ میں اس کی پوری ہسٹری شامل کی گئی۔ اب منوہر لال شرما ایڈوکیٹ نے رٹ دائر کی ہے الہ آباد ہائی کورٹ میں۔ اس میں معاہدہ کو کالعدم کہنے کو کہا گیا ہے۔ ۱۶ جنوری ۱۹۹۳ کی شام کو دہلی واپس آیا۔ جب گیتا آشر م سے نکل کر ہماری گاڑی ورندابن کے بازار سے گزرسی تو میں نے دیکھا کہ بازار کے لوگ بدستور اپنی تجارتی سرگرمیوں میں مشغول ہیں۔ یہاں ہند و اور مسلم سوال کو بھول کر لوگ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ گویا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہیں کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کمانا اور کھانا ہے۔ تمہارے بھاشٹروں سے، ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔ شہر سے باہر نکلے تو دنیا اور زیادہ وسیع تھی۔ یہاں فطرت کا ماحول ایک آفاقی پیغام دے رہا تھا۔ آسمان کی وسعتیں بدستور قائم تھیں ۔ درخت بدستور اپنی ہریالی دکھار ہے تھے۔ سورج اور چاند کا نظام بدستور اپنی جگہ قائم تھا۔ ہواؤں کے جھونکے بدستور اپنا سہانا پیغام دے رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ لوگ اشتعال انگیز باتوں پر بھڑکتے ہیں مگر جو آواز اتنی بے قیمت ہو کہ بولنے کے ساتھ ہی ہوا میں تحلیل ہو کر رہ جائے۔ یا اخبار میں چھپ کر شام تک ردی کی ٹو کری میں پہنچنے والی ہو، اس پر بھڑکنے یا مشتعل ہونے کی کیا ضرورت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader