Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

بمبئی کا سفر ۱۲ جنوری ۱۹۹۳ کو میں ایک پروگرام کے تحت ودیش (مدهیه پردیش) میں تھا۔ وہاں اتفاقی طور پر مسٹر مدھو سے ملاقات ہوئی۔ موصوف مشہور ہندوستانی اینڈولن کے چیئرمین ہیں جس کا ہیڈ کوارٹر بمبئی (3624471 Tel) میں ہے۔ موصوف سے یہ میری پہلی ملاقات تھی۔ ان سے موجودہ ملکی حالات پر گفت گو ہوئی تو وہ میرے خیالات سے بہت متاثر ہوئے۔ بمبئی واپس جانے کے بعد ان کے کئی ٹیلیفون آئے۔ وہ بمبئی میں میرا کچھ پرو گرام رکھنا چاہتے تھے۔ ان کے اصرار پر بمبئی کا سفر ہوا۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کی صبح کو بمبئی کے لئے روانگی ہوئی، اور 5 فروری کی شام کو دہلی واپس آگیا۔ دہلی ایئر پورٹ پہنچا تو وہ بھیانک ہوائی حادثہ یاد آیا جو تین ہفتہ پہلے ۹ جنوری کو یہاں پیش آیا تھا۔ روسی ساخت کا ایک جہاز (154-Tu) جو کہ انڈین ایئر لائنز کے استعمال میں تھا، حیدر آباد سے اڑ کر دہلی پہنچا۔ اس وقت ہوائی اڈہ پر کہر کھری تھی۔ جہاز نیچے اترا تو پائلٹ جہاز کو رن وے کی سنٹر لائن پر نہ اتار سکا ۔ جہاز کا دائیں طرف کا پہیہ پختہ رن وے سے اتر کر کچی زمین پر چھلا گیا۔ اس کے نتیجے میں جہاز ٹوٹ کو ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ تاہم اس کے ۱۶۳ مسافر معجزاتی طور پر بچ گئے۔ زندگی کی بھی ایک پختہ سڑک ہے۔ اور اس کے دائیں اور بائیں کچے راستے ہیں۔ ہر سڑک کے سفر کا اصول ہے کہ احتیاط کے ساتھ چلو (drive cautiously) یہی اصول زندگی کے عام سفر کا بھی ہے۔ حقائق کی رعایت کرکے زندگی کا سفر طے کرناگویا پختہ سڑک پر چلتا ہے ۔ اور جذباتی ابال یا خوش گمانی کے تحت بلا احتیاط اپنی گاڑی چلانا گویا کچی زمین پر اپنی گاڑی کو دوڑانا ہے۔ ایک صورت میں زندگی کی گاڑی محفوظ سفر کر کے اپنی منزل تک پہنچے گی اور دوسری صورت میں صرف یہ ہو گا کہ وہ بر بادی کے گڑھے میں گر کر تباہ ہو جائے۔ دہلی سے بمبئی کے لئے انڈین ایئر لائنز کے جہاز کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ آج کے اخبارات دیکھے۔ مگر کوئی بات ایسی نہیں ملی جس کو میں یہاں درج کر سکوں۔ آجکل کے اخباروں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page