بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ کبھی مقابلہ کے میدان میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ میں نے کہا کہ اسی کا نام صبر ہے ۔ ایک ہے عاجلانہ فکر ، دوسری ہے صابرانہ فکر ۔ عاجلانہ فکر وہ ہے جب کہ آدمی رد عمل میں مبتلا ہو کر سوچے ۔ صابرانہ فکر یہ ہے کہ آدمی فریق ثانی کی اشتعال انگیزی سے غیر متاثر رہے۔ وہ آزادانہ سوچ کر اپنے عمل کا رخ متعین کرے ۔ آج ۳۱ جنوری کو بمبئی ایئرپورٹ پر ایک حادثہ پیش آیا ۔ برٹش ایئرویز کا ایک جہاز (Boeing 747) بمبئی سے لندن کے لئے روانہ ہوا۔ مگر ایک گھنٹہ کے اندر دوبارہ وہ بمبئی واپس آگیا ۔ اس کے اوپر عملہ کے ۱۸ لوگوں کو ملا کر کل ، ۳۲ عورت اور مرد سوار تھے ۔ واپسی کی وجہ یہ ہوئی کہ فضا میں بلند ہونے کے بعد جہاز کے پائلٹ نے پایا کہ اس کا ایک انجن جنریٹر - (engine generator) فیل ہوگیا ہے۔ اب جہاز کو آگے لے جانا اس کو منزل کی طرف لے جانا نہیں تھا بلکہ اس کو تباہی کی طرف لے جانا تھا ، اس لئے پائلٹ نے پیچھے کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا۔ آگے بڑھنا بہت اچھی بات ہے۔ مگر اس دنیا میں کبھی پیش قدمی کو روک کر پیچھے کی طرف واپس جانا آدمی کو موقع دیتا ہے کہ وہ اپنی کمیوں کو درست کر کے دوبارہ پیش قدمی کے قابل ہوسکے۔ جب کہ اس وقت آگے بڑھنے کا مطلب عملی طور پر یہ بن جاتا ہے کہ اپنے وجود ہی کا خاتمہ کر لیا جائے۔ بمبئی ایئرپورٹ پر یہاں کے کئی احباب موجود تھے ۔ ان کے ساتھ شہر کے لئے روانگی ہوئی ۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ کو فجر کی نماز میں نے نظام الدین کی کالی مسجد میں پڑھی تھی ۔ اور اسی دن ظہر کی نماز کے وقت میں بمبئی پہنچ چکا تھا۔ جب کہ دہلی اور بمبئی کے درمیان تقریباً ۱۵۵۰ کلو میٹر کا فاصلہ ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک واقعہ وہ گزرا جس کا ذکر قرآن میں اس طرح آیا ہے__ پاک ہے وہ اللہ جو ایک رات اپنے بندے کو مکہ کی مسجد حرام سے دور کی مسجد (فلسطین ) تک لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے تاکہ اس کو اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ۔ (الاسراء) "اسراء" کے اس معاملہ پر سوچتے ہوئے خیال آیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کا شاید ایک پہلو یہ بھی ہو کہ تاریخ میں آپ ایک ایسے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader