بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
کا یہ حال ہے کہ ان میں زیادہ تر ایسی خبریں اور ایسے مضامین ہوتے ہیں جن میں کوئی سبق نہ ہو۔ یہ گویا کہ نمک کے پہاڑ ہیں، جن میں شکر کے کچھ ذرات مل جاتے ہیں جن کو ڈھونڈ کر نکالنا پڑتا ہے۔ انگریزی شاعر کے الفاظ ہیں" پانی پانی ہر طرف، مگر پینے کے لئے ایک قطرہ نہیں: Water, water everywhere. Nor a drop to drink. جہاز میں ایک ہندو سائنٹسٹ سے ملاقات ہوئی۔ امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ وہیں ایک یونیورسٹی میں پروفیسر ہوگئے تھے۔ پھر انہیں خیال آیا کہ اپنے دیش جائیں اور وہاں سائنسی علوم کو ترقی دیں۔ مگر یہاں آنے کے بعد انہیں بہت تلخ تجربہ ہوا۔ انہوں نے پایا کہ یہاں کے تمام سائنس داں کیریریسٹ سائنس داں (careerist scientists) ہیں۔ وہ اپنے سوا کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیتے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے اپنے حوصلہ شکن تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ اب میں دوبارہ امریکہ چلا جاؤں گا۔ کیوں کہ انڈیا میں میرا کوئی مستقبل نہیں: I will go back to the States, as there would hardly be any future for me in India. جس ملک میں خود اس ملک کے اپنے دماغ مایوس ہو جائیں، وہ ملک گویا کہ خود اپنے معماروں سے محروم ہو گیا۔ ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہانہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ ایک وکیل صاحب سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ عدالت میں جب حج کے سامنے مقدمہ پیش ہوتا ہے تو ایک طرف ہم ہوتے ہیں اور دوسری طرف ہمارا مخالف وکیل۔ اس وقت ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ہم ایسی بات کہیں جس سے ہمارا مخالف مشتعل ہو جائے۔ اگر کسی طرح ہم نے اس کو مشتعل کر دیا تو اس کے بعد ہماری کامیابی یقینی ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشتعل آدمی کا ذہن ڈسٹرب ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ غیر متاثرہ ذہن کے تحت معاملہ کے تمام پہلوؤں پر دھیان دے سکے۔ اس کا ذہن اصل معاملہ سے ہٹ کر حریف کی شخصیت کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ غیر متعلق باتیں کرنے لگتا ہے۔ متعلق باتیں اس کی پکڑ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ اور جس آدمی کا یہ حال ہو جائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader