بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکوؤں کے حوالے کر دی۔ آخر میں ڈاکوؤں کے سردار نے حاصل شدہ رقم کو گنا تو وہ کل سات ہزار تھی۔ اس نے کہا کہ اس میں تو ہم کو گھاٹا ہو جائے گا۔ کیوں کہ ہمیں دس ہزار روپیہ تو پولیس کو دینا ہے۔ چنانچہ اس نے تمام کی تمام رقم مسافروں کو دوبارہ واپس کر دی۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۳ء کی شام کو ۵ بجے گورنر ہاؤس میں مہاراشٹر کے گورنر پی سی الگزینڈر (P.C. Alexander) سے ملاقات ہوئی۔ اس میں میرے علاوہ اپچار یہ منی سشیل کمار، سوامی چیدانند، مادھو مہتا، جسٹس دھرم ادھیکاری، انا ہزارے اور دوسرے کئی لوگ شریک تھے۔ گورنر صاحب نے کہا کہ انھوں نے میرے کچھ انگریزی مضامین پڑھے ہیں اور شانتی یاترا کا ٹیپ دیکھا ہے۔ اس سے وہ کافی متاثر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں جو سنگین مسئلہ ہے اس کو پولیٹیکل لوگ حل نہیں کر سکتے۔ اس کو صرف مذہبی اور روحانی شخصیات ہی حل کر سکتی ہیں۔ اس ملاقات کی رپورٹ راج بھون پریس ریلیز کے تحت بمبئی کے اخبار ٹائمس آف انڈیا یکم فروری ۱۹۹۳ء میں چھپی۔ اس میں یہ صراحت بھی تھی کہ یہ ملاقات خود گورنر کی درخواست پر ہوئی: Various religious leaders and prominent citizens met the governor at Raj Bhavan at his request. (p.3) یکم فروری کی شام کو مسٹر مادھو مہتا کی قیام گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ بمبئی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر میں نے خطاب کیا۔ خطاب کے دوران میں نے کہا کہ لوگ اجودھیا کو پرابلم بنائے ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اجودھیا کو سبق اور نصیحت کا واقعہ بنا دیا جائے۔ یہاں سوال وجواب بھی ہوئے۔ ایک نوجوان رام ل شرما (Rahul Sharma) نے کہا کہ مسلمان اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ آئیڈینٹیفائی کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں آپ کا خیال کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میری معلومات کے مطابق یہ بات صحیح نہیں ہے۔ یہاں شاید کوئی بھی مسلمان ایسا نہیں جو اپنے آپ کو پاکستان کے ساتھ آئیڈینٹیفائی کرتا ہو۔ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ میچ میں کچھ مسلمان لڑکے بعض طفلانہ حرکتیں کرتے ہیں۔ میں اس قسم کی حرکتوں کو لغو سمجھتا ہوں۔ مگر وہ صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader