Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

اس قابل ہیں کہ ان کو نظر انداز کر دیا جائے۔ ان کی بنیاد پر ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں رائے بنانا صحیح نہیں۔ ٹائمس آف انڈیا کے اسپیشل کرسپانڈنٹ مسٹر ایلویون فرنانڈیز (Allwyn Fernandes) نے مفصل انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ریجنسی ہوٹل کے کمرہ ۳۰۵ میں ریکارڈ کیا گیا۔ ٹائمس آف انڈیا کے شمارہ ۲ فروری ۱۹۹۳ میں یہ انٹرویو شائع ہو چکا ہے۔ سوالات زیادہ تر مسلمانوں کے مسائل کے بارہ میں تھے۔ میں نے ایک بات یہ کہی کہ ہندو اور مسلمان دونوں کو ایک بات واضح طور پر جان لینا چاہئے کہ جب مختلف لوگ مل کر ایک سماج میں رہتے ہیں تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ کبھی ایک کو دوسرے سے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے۔ ایسا ہمیشہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر سماج میں ہوتا ہے خواہ وہ انڈیا کا معاملہ ہو یا اور کسی ملک کا معاملہ۔ ایسی حالت میں کیا کرنا ہے۔ ایسی حالت میں کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کو اوائڈ کریں۔ جنرل ایس کے سنہا (۶۶ سال) پٹنہ کے رہنے والے ہیں۔ ان سے یہاں ملاقات ہوئی ۔ ۲ فروری کی ملاقات میں میں نے کہا کہ آپ لمبی مدت تک فوج میں رہے ہیں۔ اپنی فوجی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۰۴ سے پہلے انگریزوں کے زمانہ میں جو فوج تھی وہ آج سے بہت مختلف تھی۔ اس میں زبر دست یکرکٹر پایا جاتا تھا ۔ ۱۹۰۴ میں لارڈ کرزن وائسرائے تھے۔ کلکتہ میں انگریزوں کی ایک بٹالین تھی۔ اس میں ایک ہزار انگریز سپاہی تھے۔ ان میں سے کچھ انگریز کلکتہ کی ایک کینٹین میں کھانا کھانے کے لئے گئے۔ ہندوستانی ملازم نے کھانا لانے میں کچھ دیر کی۔ ایک انگریز سپاہی جو شراب پئے ہوئے تھا غصہ میں آگیا۔ اس نے ہندوستانی ملازم کو گھونس مار دیا۔ اتفاق سے وہ مر گیا۔ یہ واقعہ اخبار میں چھپ کر کافی مشہور ہوا۔ اس کے بعد یہ کیس فوج کی کورٹ آف انکوائری میں آیا۔ انگریز فوجیوں نے طے کیا کہ وہ گواہی نہیں دیں گے اور یہ کہہ دیں گے کہ ہم کو نہیں معلوم کہ کس نے گھونس مارا ۔ آخر کار قاتل کا ثبوت نہ مل سکا۔ فوجی ذمہ داروں نے وائسرائے کو لکھ کر بھیج دیا کہ قاتل کا پتہ نہیں چل رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page