Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ سوامی ویویکانند کے بہت معتقد تھے۔ انہوں نے سوامی ویویکانند کے عالمی مذہب (universal religion) کے نظریہ کی حمایت کی۔ انہوں نے ایک کتاب دکھائی۔ اس میں تھا کہ سوامی ویویکانند نے ۱۸۹۳ء میں امریکہ کے ایک لیکچر میں کہا تھا کہ نام نہاد ٹالرنس ایک بد دینی کی بات ہے۔ میں ٹالرنس کرنے کے بجائے قبول کرنے میں یقین رکھتا ہوں۔ ٹالرنس کا مطلب یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ تم غلط ہو اور میں تم کو صرف زندہ رہنے کی اجازت دیتا ہوں۔ کیا یہ سوچنا بد دینی نہیں ہے کہ میں اور تم دونوں ایک دوسرے کو بس زندہ رہنے کا حق دے رہے ہوں ۔ میں سارے ہی مذہبوں کو قبول کرتا ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ ایک خوبصورت تخیل تو ہے مگر وہ کوئی خوبصورت نظریہ نہیں۔ نظریہ وہ ہے جو قابل عمل ہو۔ یہ بات موجودہ دنیا میں قابل عمل نہیں۔ یہاں عملی طور پر جو چیز ممکن ہے وہ ٹالرنس ہی ہے۔ اس کے ناقابل عمل ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس نظریہ کے ماننے والے ایسے مذہب کی تو قدر کرتے ہیں جو انہیں کی طرح یہ کہے کہ تمام مذاہب سچے ہیں۔ مگر جو مذہب یہ کہے کہ سچا مذہب صرف ایک ہی ہو سکتا ہے، اس کی قدر دانی کرنے کے لئے یہ لوگ کبھی تیار نہیں ہوں گے حالانکہ اپنے نظریہ کے مطابق انہیں ایسے مذہب کی بھی پوری قدر کرنا چاہئے۔ تعدد حقیقت کے اس ہندو نظریہ کو مغربی ملکوں میں بہت مقبولیت ملی ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام کے توحید حقیقت کے نظریہ کو وہاں زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہو سکی۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے اس کو مغرب کے لوگوں کا تعصب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اسلام دشمنی کی بنا پر ایسا کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ رائے درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اہل مغرب کے لئے ہندو ازم کا نظریہ زیادہ مفید مطلب (convenient) ہے، جبکہ اسلام کا نظریہ انہیں اپنے لئے موافق نظر نہیں آتا۔ اہل مغرب یہ چاہتے ہیں کہ مذہب ان کے سیاسی اور تمدنی معاملات میں داخل نہ ہو۔ اس مقصد کے لئے انہوں نے کہا کہ مذہب ایک پرائیویٹ انسانی معاملہ ہے۔ ہندو ازم کے نظریہ میں بھی ان کو یہی فائدہ دکھائی دے رہا ہے۔ جس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے انہوں نے مذہب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page