Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

والے اتنا پریشان ہوئے کہ انھوں نے راستہ بدل دیا اور کسی ٹکم اور یا الیکشن کی نوبت نہیں آئی۔ ۲ فروری کو مسٹر مدھو مہتا کی رہائش گاہ پر جنرل سہنا اور راماکرشن (S. Ramakrishnan) سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر راماکرشن نے میری کل کی تقریر کے بارہ میں کہا کہ اس کو سن کر مجھے ایسا لگا جیسے کوئی رشی بول رہا ہے۔ آپ کے شبد ہونٹوں سے نہیں بلکہ دل سے نکل رہے تھے۔ مسٹر راماکرشن ایک بہت بڑا مشن چلا رہے ہیں۔ اس کا نام ڈی۔ ڈیوائن لائف سوسائٹی ہے۔ انھوں نے اپنی سوسائٹی کی چھپی ہوئی کئی کتابیں دیں جو اخلاق اور روحانیت کی تعلیمات پر مبنی تھیں۔ انھوں نے راج گوپال اچاری کے کئی واقعات بتائے۔ راج گوپال اچاری کے متعلق میرا خیال ہے کہ مہاتما گاندھی کے بعد وہ پورے ملک میں سب سے زیادہ قابل اور لائق آدمی تھے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد اگر وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیراعظم ہوتے تو شاید ملک کی تاریخ کچھ اور ہوتی۔ مسٹر پرتاپ بھوگی لال بمبئی کے ایک صنعت کار ہیں فون نمبر 362388 ( ان کی رہائش گاہ پر ۲ فروری کی شام کو مغرب بعد ایک اجتماع ہوا۔ اس میں تقریباً چالیس لوگ شریک ہوئے۔ وہ زیادہ تر ممتاز تجارتی افراد تھے۔ اس موقع پر میں نے سہ نکاتی فارمولے کی وضاحت کی نیز یہ بتایا کہ موجودہ ملکی مسائل کا حل کیا ہے۔ آخر میں سوال وجواب ہوا۔ ۲ فروری کو مسٹر آشیش شاہ (Ashish Shah) نے نہایت تفصیلی انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو مڈڈے (Mid-day) کے لئے تھا۔ وہ مڈڈے کے شمارہ ۱۳ مئی ۱۹۹۳ میں شائع ہو چکا ہے۔ مسٹر ہرندر دوے ایک گجراتی اخبار جنم بھومی (جاری شده ۱۹۳۴) کے ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو لیا۔ وہ اشعار کا بھی ذوق رکھتے ہیں۔ انھوں نے موجودہ نمکی لیڈر شپ پر سلام مچھلی شہری کا ایک شعر سنایا: سمندر تیز طوفانی ہوا ٹوٹی ہوئی کشتی یہی اسباب کیا کم تھے کہ اس پر ناخدا تم ہو مسٹر ہرندر دوے روحانی مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں پرارتھنا بھی کرتا ہوں تو بھگوان سے یہ کہتا ہوں کہ جو بھی اچھی بات میرے لئے ہو اس کو آپ میرے لئے کر دو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page