بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 150
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں دیتی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ میں نے مبئی سے تھانے تک ٹرین میں سفر کیا۔ یہ تقریباً ایک گھنٹہ کا سفر تھا۔ مگر پورے سفر میں کوئی انسانی آواز سنائی نہ دی۔ لوگوں کو ڈر ہوتا تھا کہ اگر وہ بولیں تو فوراً اُن کی آئیڈنٹٹی معلوم ہو جائے گی۔ اگر کبھی بولنا ضروری ہو جائے تو لوگ سوچنے لگتے تھے کہ ہندی میں بولیں یا مراٹھی میں۔ انھوں نے بتایا کہ عام طور پر ٹرینوں میں لوگ وقت گزارنے کے لئے تاش کھیلتے ہیں یا بھجن گاتے ہیں۔ مگر فساد کے دنوں میں سب کچھ مکمل طور پر بند ہو گیا تھا۔ ۴ فروری کو ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی عمارت میں ۳۰ ویں منزل پر جانا ہوا۔ یہاں ایڈیٹرس گلڈ کی کی میٹنگ تھی جس میں مجھ کو خطاب کرنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ ’ایڈیٹرس گلڈ‘ کے زیر اہتمام دہلی کے ممتاز جرنلسٹوں کی ایک ٹیم بمبئی آئی تھی تاکہ یہاں کے فساد کے بارہ میں فرسٹ ہینڈ معلومات حاصل کرے ۔ یہ سب لوگ یہاں موجود تھے۔ چالیس سے زیادہ کی تعداد میں تمام بڑے بڑے ہندی اور انگریزی اخباروں کے ایڈیٹر اس میں شریک ہوئے۔ ہال کی ساری سیٹیں بھر گئیں۔ آخر کار مزید کرسیاں منگانی پڑیں ۔ زیادہ تر ہندو اور کچھ کرسچین تھے۔ کنڈکٹ کرنے آغاز کرتے ہوئے کہا: Unusually it is a very large meeting. مقررین نے بمبئی کے فساد پر زیادہ تر انتظامیہ کو سخت سست کہا۔ ایک صاحب نے پر جوش طور پر بولتے ہوئے کہا: Who is policing the police. دوسرے نے کہا کہ اصل قصور پولیس کا نہیں ہے بلکہ سیاسی لیڈروں کا ہے۔ پولیس کسی مجرم کو پکڑتی ہے اور اس کو سزا دینا چاہتی ہے۔ مگر فوراً ہی کسی لیڈر کا ٹیلی فون پولیس افسر کو پہنچ جاتا ہے کہ یہ میرا آدمی ہے ، اس کو چھوڑ دو۔ لیڈر جب تک پولیس کے کام میں دخل دینا نہیں چھوڑیں گے، امن نہیں ہو سکتا۔ اکثر لوگ غصہ کے انداز میں بول رہے تھے کہ آخر اس قسم کے بھیانک فساد ملک میں کیوں ہوتے ہیں۔ ہر آدمی لمبی لمبی تقریر کرتا تھا۔ مگر اس کی تقریر بہ زیدہ تر غیر متعلق باتوں سے بھری رہتی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader